اس حدیث میں حسد سے مراد غبطہ یعنی رشک ہے اور دوسرے کی نعمت کی اپنے لئے تمنا کرنا غبطہ کہلاتاہے جبکہ اس کی نعمت کے زوال کی تمنا نہ کی جا ئے ۔
(۶۴۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،'' اللہ عزوجل قیامت کے دن دو بندوں کو زندہ فرمائے گا، جن کو دنیا میں کثیر مال اور اولا دسے نوازا تھا،پھرایک سے ارشاد فرمائے گا،'' اے فلا ں بن فلا ں!'' وہ عر ض کریگا، ''لبیک میرے رب ! میں حا ضر ہو ں ۔'' اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، ''کیا میں نے تجھے ما ل اور کثیر اولا دعطا نہ فرمائی تھی؟'' وہ عر ض کریگا ،''کیوں نہیں۔'' اللہ عزوجل فرمائے گا ، ''تُو نے میرے عطا کردہ مال کاکیا کِیا؟ ''وہ عر ض کریگا،'' میں نے اسے محتا جی کے خوف سے اپنے بچو ں کے لئے چھوڑ دیا ۔'' اللہ عزوجل فرمائے گا ،''اگر تو حقیقت جا ن لیتا تو ہنستا کم اور رو تا زیا دہ، کیونکہ جس چیز کا تجھے اپنے بچوں پر خوف تھا میں نے انہیں اسی میں مبتلا کردیا۔''
پھردوسرے بند ے سے فرمائے گا،'' اے فلا ں بن فلا ں ! ''وہ عر ض کریگا،'' لبیک ای رب وسعدیک اے میرے رب عزوجل ! میں حا ضر ہوں۔''اللہ تعالیٰ فرمائے گا،'' کیا میں نے تجھے کثر ت سے مال اور اولاد عطا نہیں فرمائی تھی؟'' وہ عر ض کریگا،'' یا رب عزوجل ! کیوں نہیں ۔''اللہ عزوجل فرمائے گا،''تو نے میرے عطا کردہ مال کے ساتھ کیا کیا؟'' وہ عرض کریگا،'' یا رب عزوجل !میں نے اسے تیر ی طاعت میں خرچ کیا اور مو ت کے بعد اپنے بچو ں کے لئے تیر ی عطا پر بھر وسہ کیا۔'' تو اللہ عزوجل فرمائے گا ،''اگر تو حقیقت جا ن لیتا تو رو تا کم اور ہنستا زیادہ، تونے جو بھروسہ کیا تھا میں نے تیر ی اولاد کے ساتھ وہی معا ملہ کیا۔''