| جنت میں لے جانے والے اعمال |
ہوں ۔''یہ احباب ورشتے دارہیں اور دوسرا دو ست کہتا ہے ،''جو کچھ تو نے دے دیا وہ تیرا ہے اور جو روک لیا وہ تیرا نہیں۔'' یہ تیرا مال ہے اور ایک دوست کہتا ہے کہ ،''تو جہا ں داخل ہوگایا جہاں سے نکلے گامیں تیر ے ساتھ ر ہو ں گا۔'' یہ تیرا عمل ہے تو وہ بندہ کہے گا کہ'' اللہ عزوجل کی قسم!تُوان تینوں میں سے میرے لئے سب سے آسا ن تھا ۔''
( مستدرک للحاکم، کتاب الایمان، باب الاخلاء ثلاثۃ، رقم ۲۵۶، ج۱، ص ۲۵۴)
(۶۴۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ذررضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگا ہ میں حاضر ہوا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اس وقت کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھے دیکھا تو فرمایا،'' ربِ کعبہ کی قسم! وہی لوگ خسا رے میں ہیں۔'' میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر بیٹھ گیالیکن میں ابھی ٹھیک سے بیٹھ نہ پایاتھا کہ اٹھ کھڑا ہوا او ر عرض کیا، ''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے ما ں باپ آپ پر قربا ن! کو ن سے لوگ خسارے میں ہیں ؟'' فرمایا،'' وہ جو بہت مالدار ہوں سوائے اس شخص کے جو اپنے سامنے، آگے اور پیچھے دل کھول کر اللہ عزوجل کی راہ میں خرچ کرے ،مگر ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں ۔''
(مسلم ،کتاب الزکاۃ، با ب تغلیظ عقوبۃ من لایودی الزکاۃ، رقم ۹۹۰، ص ۴۹۵)
(۶۴۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' ہم وہی آخری لوگ ہیں جو قیامت کے دن سب سے پہلے آئیں گے اور بے شک کثیر مال والے ہی قیامت کے دن سب سے پیچھے ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے آگے پیچھے اوردائیں بائیں ،دل کھول کر خرچ کریں۔'' یہ بات ارشا د فرماتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دامن اقدس جھاڑ کر خرچ کرنے کی کیفیت کی مثال دے رہے تھے ۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبا ن ،کتاب الزکاۃ،باب جمع المال، رقم ۳۲۰۷، ج۵، ص۹۰ )
(۶۴۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' حسد(رَوا) نہیں مگر دو آدمیوں کے معاملے میں ،پہلا شخص وہ ہے جسے اللہ عزوجل نے قرآن عطافرمایااور وہ دن رات اس میں مشغول رہے اور دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایااور وہ دن رات اسے (راہ خداعزوجل میں) خرچ کرتارہے ۔''
(مسلم، کتا ب صلوۃ المسا فرین ،با ب فضل من یقوم با لقرآن ویعملہ، رقم ۸۱۵ ،ص ۴۰۷)