| جنت میں لے جانے والے اعمال |
سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' بے شک آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ایک فرشتہ کہتا ہے ،'' جو آج قر ض دے گا کل اسے بدلہ دیا جائے گا۔''اور دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ کہتا ہے،'' اے اللہ عزوجل! خر چ کرنے والے کو بدلہ عطا فرمااوراپنے ما ل کو رو ک رکھنے والے کا مال ضا ئع فرما۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبا ن ، کتا ب الزکاۃ ، صدقۃ التطوع ،رقم ۳۳۲۳ ،ج۴، ص ۱۴۰)
(۶۳۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دونو ں پہلوؤ ں میں دو فرشتے ندا کرتے ہیں ،''اے اللہ عزوجل !جو خر چ کرے اسے جزا عطا فرما اور جو اپنے مال کو روک کر رکھے اس کا مال ضا ئع فرما۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبان ، کتاب الرقائق، باب الفقر والزھد والتفا عۃ، رقم ۶۸۵، ج ۲، ص ۳۷)
(۶۴۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' اللہ عزوجل فرماتا ہے تو خرچ کر میں تجھ پر خر چ کر وں گا۔ ''اورفرمایا،'' کہ اللہ عزوجل کے خزانے بھرے ہوئے ہیں، دن رات مسلسل خرچ کرنے سے بھی ان میں کوئی کمی نہیں آتی، کیاتم نہیں دیکھتے کہ جب سے اس نے زمین وآسما نو ں کو پیدا فرمایا ہے خر چ کررہا ہے، بے شک اس سے اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی،اس کا عرش پانی پر تھا اورمیز ان اسی کے دست قدرت میں ہے جسے وہ جھکا تا او ربلند کرتاہے ۔''
(مسلم ،کتا ب الزکاۃ ،با ب الحث علی النفقۃ ،رقم ۹۹۳ ،ص ۴۹۸)
(۶۴۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،'' بخیل اورسخی کی مثال ان دو آدمیوں کی مثال کی طر ح ہے جن پر سینے سے پسلی کی ہڈی تک لو ہے کی زرہ ہے، تو سخی جب خر چ کرنے لگتا ہے تووہ زِرہ اس کے پورے جسم پر کشادہ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیو ں کے پَوروں کو چھپا لیتی ہے اور وہ اپنی انگلیوں سے اس کے اثر کو مٹا دیتا ہے جبکہ بخیل جب خرچ کرنے کاارادہ کرتاہے توکڑی کا ہر حلقہ اپنی جگہ پیوست ہوجاتا ہے اوروہ اسے کشا دہ کرنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتا ۔''
(بخاری ،کتا ب الزکاۃ، با ب مثل المتصدق والبخل، رقم ۱۴۴۳ ،ج ۱، ص ۴۸۶)
(۶۴۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''دو ست تین ہیں، ایک دو ست کہتا ہے ''میں تیر ی قبر میں جانے تک تیر ے ساتھ