(7) اِنَّ الَّذِیۡنَ یَتْلُوۡنَ کِتٰبَ اللہِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً یَّرْجُوۡنَ تِجَارَۃً لَّنۡ تَبُوۡرَ ﴿ۙ29﴾
ترجمہ کنزالایمان :بے شک وہ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نَماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جس میں ہر گز ٹوٹا (نقصان) نہیں تا کہ ان کے ثواب انہیں بھر پوردے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے بے شک وہ بخشنے والا قد ر فرمانے والاہے ۔''(پ 22، الفا طر: 29،30 )
(8) اٰمِنُوۡا بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَکُمۡ مُّسْتَخْلَفِیۡنَ فِیۡہِ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ وَ اَنۡفَقُوۡا لَہُمْ اَجْرٌ کَبِیۡرٌ ﴿7﴾
ترجمہ کنزالایمان :اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں کچھ وہ خرچ کرو جس میں تمہیں اوروں کاجانشین کیا تو جوتم میں ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا ان کے لئے بڑا ثواب ہے ۔
صدقہ کے بارے میں احادیث ِ مبارکہ:
(۶۳۷) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' ہر روز دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتاہے ''اے اللہ عزوجل !خرچ کرنے والے کو جزاعطا فرما۔'' اوردوسرا کہتاہے ،''اے اللہ عزوجل ! اپنا مال رو ک کررکھنے والے کا ما ل ضائع فرما۔''(پ 27 ،الحد ید: 7 )
(مسلم ،کتا ب الزکاۃ، با ب فی المنفق والممسک ،رقم ۱۰۱۰ ،ص ۵۰۴)
(۶۳۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر،