| جنت میں لے جانے والے اعمال |
گزشتہ صفحات میں حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت گزر چکی ہے کہ'' سات چیز یں بندے کی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہیں حالا نکہ وہ بندہ اپنی قبر میں ہوتا ہے،(۱)اس نے جوعلم سکھایا،یا(۲)نہر بنوائی،یا(۳) کنواں کھدوایا، یا (۴)درخت اگایا، یا(۵) مسجد بنوائی ،یا(۶) ورثہ میں مصحف چھوڑا ، یا (۷) ایسا بچہ چھوڑ کر مرا جواس کے مرنے کے بعد اس کے لئے استغفار کرے ۔''
(مسند احمد، رقم ۳۳۵۷۹ ،ج ۹، ص ۱۳۶)
(۶۳۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم بنی عمروبن عو ف کے ہا ں تشریف لائے تو فرمایا ،''اے انصا ر کے گروہ ! انہوں نے عر ض کیا،'' لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!''توآپ نے فرمایا ، ''دورِجاہلیت میں جب تم اللہ عزوجل کی عبادت نہیں کرتے تھے توکمزوروں کا بوجھ اٹھایا کرتے تھے اور اپنے اموال سے اچھے کام کیا کرتے تھے اور مسافر وں کے ساتھ اچھا سلو ک کرتے تھے یہا ں تک کہ جب اللہ عزوجل نے اسلا م اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تم پہ احسان فرمایا تو تم اپنے اموال کو محفو ظ کرنے لگے ، سن لو! جس چیز میں سے کوئی آدمی کھاتا ہے اس میں ثواب ہے اور جس میں سے کوئی درندہ یا پر ندہ کھا تا ہے اس میں بھی ثواب ہے ۔''
راوی کہتے ہیں کہ یہ لوگ جب واپس لوٹے تو ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے باغ میں سے تیس تیس دروازے نکال لئے ۔(المستدرک ،کتاب الاطعمۃ ، باب النھی الواضح عن تحصین الحیطان الخ، رقم ۷۲۶۵،ج۵ ،ص ۱۸۳ )