Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
235 - 736
کوئی اسے نقصان پہنچائے گا و ہ بھی ا ِس کے لئے قیامت تک صدقہ ہے۔'' 

     ایک روایت میں ہے کہ ''جومسلمان درخت لگائے یا کھیتی بو ئے پھر اس میں سے کسی انسان یاجا نو ر یا پرندے نے کھا یا تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے۔''

     جبکہ دوسری روایت میں ہے کہ ''مسلمان جو کچھ اُگائے پھر اس میں سے کوئی انسان یا جانور یا پرند ہ کھائے تو وہ اس کے لئے قیامت تک صدقہ ہوگا۔''
   (مسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل الغر س والزرع ،رقم ۱۵۵۲ ،ص ۸۳۹)
(۶۳۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سائب رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے کھیتی بوئی پھر اس میں سے پرندے یا کسی بھوکے جانو ر نے کھا یا تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے۔''
(مسند احمد، رقم ۱۶۵۵۸ ،ج ۵، ص ۵۶۴)
(۶۳۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ بن اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے کسی ظلم وزیادتی کے بغیر کوئی گھر بنایایا ظلم وزیادتی کے بغیر کوئی فصل بوئی، جب تک اللہ تبارک وتعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی ایک بھی اس سے نفع اٹھاتا رہے گا اسے ثواب ملتا رہے گا ۔''
(مسند احمد، رقم ۱۵۶۱۶، ج۵، ص ۳۰۹)
(۶۳۳)۔۔۔۔۔۔اما م احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ ایک صحا بی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا، '' جس نے کوئی درخت لگا یا اور اسکی حفا ظت اور دیکھ بھال پر صبر کیا یہا ں تک کہ وہ پھل دینے لگا تو اس میں سے کھایا جانے والا ہرپھل اللہ عزوجل کے نزدیک اس کے لئے صدقہ ہے ۔''
    (مسند احمد، رقم ۱۶۵۸۶، ج۵ ،ص ۵۷۴)
(۶۳۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دمشق میں ایک جگہ کھیتی بورہا تھا کہ ایک شخص میرے قریب سے گزرا تو اس نے مجھ سے کہا کہ ''آپ صحا بئ رسول ہونے کے باوجود یہ کام کررہے ہیں ؟'' تو میں نے اس سے کہا میرے بارے میں رائے قائم کرنے میں جلد بازی مت کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے ،'' جس نے فصل بوئی تو اس فصل میں سے آدمی یا مخلوق میں سے جو بھی کھائے گا وہ اس کے لئے صدقہ شمار ہو گا۔''
 (مسند احمد ،رقم ۲۷۵۷۶، ج۰ ۱، ص ۴۲۱)
(۶۳۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو شخص کھیتی بوئے گا اللہ عزوجل اس سے نکلنے والی فصل کی مقدار کے برابراس کے لئے ثواب لکھے گا۔''
Flag Counter