وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ مِّنْ خَیۡرٍ تَجِدُوۡہُ عِنۡدَ اللہِ ہُوَ خَیۡرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا ؕ
ترجمہ کنزالایمان :اور اپنے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب کی پاؤگے ۔( پ 29،المزمل:20)
جبکہ ایک مقام پر ہے ،
فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿7﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿8﴾
ترجمہ کنزالایمان :تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔(پ 30، الزلزال:7،8)
اس بارے میں احادیث ِ مقدسہ:
(۶۲۸)۔۔۔۔۔۔ حضر ت اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جومسلمان درخت لگا ئے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جوپرند ہ یا انسا ن کھا ئے تو وہ اسکی طر ف سے صدقہ شما ر ہوگا ۔''
(مسلم ،کتاب المساقات والمزارعۃ،با ب فضل الغر س والمزارع، رقم ۱۵۵۳ ،ص ۸۴۰ )
(۶۲۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو مسلمان درخت لگائے او رفصل بوئے پھر اس میں سے جوکچھ انسان اور پر ند ہ وغیرہ کھائے تو اسے اس کاثواب ملے گا۔''
(مجمع الزوائد ،کتا ب الزکاۃ، باب فی من غرس غرسا اوبنی بنیا نا، رقم ۴۷۴۰ ،ج۳، ص ۳۲۶)
(۶۳۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو مسلمان درخت لگائے تو اس میں سے جوکچھ کھایاجائے گا وہ اس کے لئے صدقہ ہے او رجو کچھ اِس میں سے چوری ہوگا وہ اِس کے لئے صدقہ ہے اورجو