Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
233 - 736
(۶۲۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' پانی سے بڑھ کر کوئی صدقہ زیادہ ثواب والا نہیں'' ۔
    (شعب الایمان، باب فی الزکاۃ ، فصل فی اطعام الطعام وسقی الماء ،رقم ۳۳۷۸، ج ۳ ،ص ۲۲۲)
 (۶۲۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، '' مومن کے انتقال کے بعد اس کے عمل اور نیکیوں میں سے جو کچھ اسے ملتا رہے گا، وہ یہ ہے(۱) اس کا وہ علم جسے اس نے سکھایا اور پھیلایا اور(۲) نیک بیٹا جسے اس نے چھوڑا ،یا(۳) وہ قرآن پاک جسے ورثہ میں چھوڑ ا،یا(۴) وہ مسجد جسے اس نے بنایا،یا (۵) مسافرخانہ بنایا ،یا (۶) کسی نہر کو جاری کیا ،یا (۷) وہ صدقہ جاریہ جسے اس نے حالتِ صحت اور زندگی میں اپنے مال سے دیا ، ان کا ثواب اسے موت کے بعد بھی ملتا رہے گا۔''
 (ابن ماجہ ، کتاب السنۃ ،باب ثواب معلم الناس الخیر،رقم ۲۴۲،ج ۱، ص ۱۵۸ )
 (۶۲۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے،''سات چیزیں آدمی کو اس کی موت کے بعد اس کی قبر میں بھی ملتی رہتی ہیں، اس نے جوعلم سکھا یا ،یا نہر جاری کروائی یا کنوا ں کھد وایا' یا درخت اگایا، یا مسجد بنوائی یا ورثہ میں مصحف چھوڑا، یا ایسا بچہ چھوڑ کر مرا جواس کے مرنے کے بعد اس کے لئے استغفار کرے۔''
 (مجمع الزوائد، کتا ب العلم ،باب فی من سنّ خیرا او غیر ہ اودعا ، رقم ۷۶۹، ج ۱، ص ۴۰۸)
 (۶۲۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم !میری ماں انتقال کر گئی ،(ان کے لئے) کون سا صدقہ افضل ہے ؟'' ارشاد فرمایا ،''پانی۔'' تو میں نے ایک کنواں کھدوایا اورکہا'' یہ اُمّ سعد کے لئے ہے۔''
    (سنن ابی داؤد، کتاب الزکاۃ ، با ب فی فضل سقی الما ء، رقم ۱۶۸۱، جلد ۲، ص ۱۸۰)
 (۶۲۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے کنوا ں کھودا تو اس میں سے جن واِنس اور پر ندو ں میں سے جوجاندار بھی پانی پئے گا اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن اس کا ثواب عطا فرمائے گا ۔''
 (التر غیب والترہیب ،باب التر غیب فی اطعام الطعام وسقی الماء ،رقم ۳۶ ،ج ۲ ،ص ۴۲)
    حضرتِ سیدنا علی بن حسن بن شقیق علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے کہا'' اے ابوعبدالرحمن !سات سال ہونے کو آئے میرے گھٹنے پرایک پھوڑانکلا ہے میں نے مختلف طریقو ں سے اس کا علا ج کرایا اور بہت سے طبیبو ں سے اس کے بارے میں پوچھا مگر مجھے کوئی فائد ہ نہیں ہوا۔'' تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا،'' جاؤ!کوئی ایسی جگہ تلاش کرو جہاں لوگ پانی کے محتا ج ہوں اوروہاں ایک کنواں کھدواؤ ،مجھے امید ہے کہ وہاں پانی نکلتے ہی تیرا خون بہنابند ہو جائے گا ۔''تو اس شخص نے ایسا ہی کیا اورشفایاب ہوگیا۔
Flag Counter