Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
232 - 736
جا ئے گا تو ملا ئکہ اسے ہانکتے ہوئے لے جارہے ہونگے کہ وہ اس عا بد کو دیکھے گا تو اس سے کہے گا ،''اے فلاں! کیا تو مجھے نہیں پہچانتا ؟ ''وہ پوچھے گا،'' تو کون ہے؟'' تویہ جواب دے گا،'' میں وہی ہوں جس نے صحرا ء میں اپنی جا ن کے مقابلہ میں تجھے ترجیح دی تھی ۔''یہ سن کر وہ عابد کہے گا، ''کیوں نہیں میں تجھے پہچانتا ہوں۔'' پھروہ فرشتو ں سے کہے گا ،''رک جاؤ۔'' تو وہ رک جا ئیں گے ۔پھر یہ اپنے رب عزوجل کی بارگا ہ میں حا ضر ہو کر اسے پکارے گا اور کہے گا،'' یا رب عزوجل !تو اسکی نیکی کوجانتا ہے کہ اس نے کس طر ح مجھے اپنے آپ پر ترجیح دی تھی، یا رب عزوجل ! اسے میرے حوالے کردے ۔''تو اللہ عزوجل فرمائے گا،'' وہ تیر ے حوالے ہے۔'' تو وہ عا بد اپنے بھائی کے پاس آئے گا اوراس کا ہاتھ تھام کراسے جنت میں داخل کردے گا ۔''
(مجمع الزوائد، کتاب البعث، باب شفاعۃ الصالحین ،رقم ۱۸۵۴۹ ،ج۱۰ ،ص ۶۹۴،بتغیر قلیل)
(۶۲۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنااَنس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''اہلِ جنت میں سے ایک شخص قیامت کے دن اہل جہنم کو اوپر سے جھا نک کر دیکھے گا تو جہنمیوں میں سے ایک شخص اسے پکار کر کہے گا،'' اے فلا ں ! کیا تو نے مجھے پہچانا؟'' وہ جنتی شخص کہے گا،'' اللہ عزوجل کی قسم! میں نے تجھے نہیں پہچا نا تو کون ہے؟'' تو وہ کہے گا،'' میں وہی ہوں کہ جب تو دنیا میں میرے پاس سے گزرا تھا تو تو نے مجھ سے پانی مانگا تھااور میں نے تجھے پانی پلایا تھا۔'' تو وہ جنتی کہے گا ،'' میں نے تجھے پہچان لیا۔'' تو وہ کہے گا کہ'' میرے لیے اس نیکی کی وجہ سے اپنے رب عزوجل کی بارگا ہ میں شفا عت کرو ۔''

    چنانچہ وہ شخص اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس کا تذکرہ کرکے سوال کریگا اور کہے گا میں نے جہنم میں جھانکا تو مجھے ان میں سے ایک شخص نے پکا رکر کہا، ''کیاتونے مجھے پہچا نا؟'' تو میں نے کہا،'' اللہ عزوجل کی قسم! میں نے نہیں پہچانا کہ تُو کون ہے ؟'' تو اس نے کہا کہ'' میں وہی ہوں کہ جب تو دنیامیں میرے قریب سے گزرا تھا تو تُو نے مجھ سے پانی کاایک گھو نٹ مانگا تھا تو میں نے تجھے پانی پلایا تھا ، لھٰذا تو اپنے رب عزوجل کی بارگا ہ میں میری شفاعت کر، تو یا رب عزوجل! میری شفا عت اس کے حق میں قبول فرمالے۔'' پھر اللہ عزوجل اسے جہنم سے نکالنے کا حکم دے گا تو اسے جہنم سے نکال دیا جائے گا۔''
(مجمع الزوائد، کتاب البعث ،با ب شفاعۃ الصا لحین ،رقم۰ ۱۸۵۵، ج ۱۰، ص ۶۹۵)
(۶۲۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنااَنس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگا ہ میں حاضر ہو کر عر ض کیا،'' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری ماں فو ت ہوگئی ہے اور اس نے کو ئی وصیت نہیں کی اب اگر میں اسکی طر ف سے کوئی صدقہ کروں تو کیا اسے نفع پہنچے گا ؟ ''فرمایا،'' ہا ں اور تجھ پر لا زم ہے کہ تو پانی صدقہ کرے ۔'
'     (مجمع الزوائد، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃعن المیت، رقم ۴۷۶۷، ج۳ ،ص ۳۳۵)
Flag Counter