Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
231 - 736
ہے جسے کرکے میں جنت میں داخل ہوسکتاہوں ؟'' فرمایا،'' کیا تو کسی ایسے شہر میں رہتاہے جہاں پانی جمع کرلیا جاتا ہے؟'' اس نے عرض کیا ، ''ہاں۔'' فرمایا،'' پھر تم ایک نئی مشک خریدو پھر اسے بھر لو اور اس کے پھٹنے تک لوگوں کو پانی پلاتے رہو اس طرح اس کے پھٹنے سے پہلے ہی تم جنتیوں کے عمل تک پہنچ جاؤ گے۔''
(التر غیب والترہیب ،کتاب الصدقات ،باب التر غیب فی اطعام الطعام وسقی الما ء، رقم ۲۸ ،ج۲، ص۴۰ )
(۶۱۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا کُدَیرضبی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا، ''مجھے ایسا عمل بتایئے جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کر دے۔'' تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،''کیا یہ دونوں باتیں تمہیں عمل پر اُبھار تی ہیں؟ ''اس نے کہا ،''جی ہاں۔'' فرمایا،'' حق بات کہو اور جو زائد چیز تمہارے پاس ہو وہ کسی کو عطا کردیا کرو۔''اس شخص نے عرض کیا، ''خدا کی قسم !میں ہر وقت حق بولنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور نہ ہی زائد چیز عطا کردینے کی طاقت رکھتاہو ں۔'' فرمایا، ''تو محتاجوں کو کھانا کھلادیا کرواور سلام کو عام کرو۔'' 

    اس نے عرض کیا ،''یہ بھی مشکل ہے۔'' ارشاد فرمایا، ''کیاتمہارے پاس اونٹ ہے؟'' اس نے عر ض کیا،''جی ہاں۔'' فرمایا ،''اپنے اونٹوں میں سے کوئی جوان اونٹ اور پانی کا مشکیزہ ساتھ لو اور پھر ایسا گھرا نہ دیکھو جو ایک دن چھوڑ کر دو سرے دن پانی پیتا ہو پھر اسے پانی پلا ؤ تونہ تیرا اونٹ ہلاک ہوگا ا ور نہ تیرا مشکیزہ پھٹے گا اور تیرے لئے جنت واجب ہوجائے گی۔'' پھروہ اعرابی تکبیر پڑھتے ہوئے چلاگیا تو اس کے اونٹ کے ہلا ک ہونے اور مشکیزہ پھٹنے سے پہلے ہی اسے شہید کردیا گیا ۔''
(طبرانی کبیر، کدیر الضبی، رقم ۴۲۲ ،ج۱۹، ص ۱۸۷)
(۶۲۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ'' دو شخص ایک صحر اء سے گزر رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص عبا دت گزار تھا جبکہ دو سرا بدکارتھا۔ ایک مرتبہ عبادت گزار شخص کو اتنی شدید پیاس لگی کہ وہ شدتِ پیا س سے غش کھا کر گر گیا۔جب اس کے ساتھی نے اسے گرتے ہوئے دیکھا تو اس نے کہا،''اللہ عزوجل کی قسم! اگر یہ نیک بندہ پیاسا مرگیا حالا نکہ میرے پاس پانی مو جود ہے تومیں اللہ عزوجل کی طر ف سے کبھی کوئی بھلائی نہ پاسکوں گا اوراگر میں اسے اپنا پانی پلا دو ں تو میں ضرو ر پیاس کی وجہ سے مرجا ؤ ں گا۔'' پھر اس نے اللہ عزوجل پر بھر وسہ کرتے ہوئے اپنے ساتھی کو پانی پلانے کاپختہ ارا دہ کیا۔چنانچہ اس نے اس پر اپنا پانی چھڑکا اور باقی ماندہ پانی اسے پلا دیا۔ پھر وہ اٹھا اور صحرا ء پار کرگیا۔''

     (پھر پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا) ،'' جب اس بدکار کو حساب کے لئے روکا جائے گا اور اسے جہنم کا حکم دے دیا
Flag Counter