فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿7﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿8﴾
ترجمہ کنزالایمان :تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔ (پ 30، الزلزال: 7،8 ) (۶۱۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''ایک شخص کسی راستے سے گزررہا تھا کہ اسے شدید پیاس محسوس ہوئی تو اس نے قریب ہی ایک کنواں پایا وہ اس میں اترا اور پانی پی کر نکل آیا ۔اس نے وہاں ایک کتے کو دیکھا جو ہانپ رہا تھا اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ کھا رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ اسے بھی اتنی ہی پیاس لگی ہو گی جتنی مجھے لگی تھی۔پھر وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے میں پانی بھر کر اسے اپنے منہ میں دبایا اور اوپر آیا اور وہ پانی کتے کو پلادیا۔ اللہ عزوجل کو اس کا یہ عمل پسند آیااور اس کی مغفرت فرمادی۔ ''صحا بہ کرام نے عرض کیا،''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیاہمارے لئے چوپایوں میں بھی ثواب ہے؟''فرمایا،'' ہر جان والی چیز میں ثواب ہے۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبا ن ،کتا ب البر والاحسان ، رقم ۵۴۵، ج ۱، ص ۳۷۸)
(۶۱۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا محمودبن ربیع رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا سُراقہ بن جُعْشُم رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم !کوئی گمشدہ جانور میرے حوض پر آجائے تواگر میں اسے پا نی پلادوں تو کیا اس میں میرے لئے ثواب ہے ؟'' فرمایا،'' اسے پانی پلادیا کرو کیونکہ ہر جا ندار میں ثواب ہے۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبا ن ،کتا ب البر والاحسان، رقم ۵۴۳ ،ج۱، ص ۳۷۷)
(۶۱۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداﷲ بن عَمْرو رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ایک شخص نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگا ہ میں حاضر ہو کر عرض کیا، ''جب میں اپنے اونٹوں کو پانی پلانے کیلئے اپنا حوض بھرتا ہوں تو دوسروں کے اونٹ بھی پانی پینے کے لئے آجاتے ہیں تو میں انہیں بھی پانی پلادیتا ہوں، کیا اس میں میرے لئے ثواب ہے ؟ ''فرما یا،'' ہر جان والی چیز میں ثواب ہے ۔''
(التر غیب و الترہیب، کتاب الصدقات، باب التر غیب فی اطعام الطعام وسقی الماء، رقم ۲۹، ج۲ ،ص ۴۰ )
(۶۱۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضرہوکر عرض کیا ، ''کون سا ایسا عمل