Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
228 - 736
سلوک کرنااور تین خصلتیں جس میں ہوں گی تواللہ عزوجل اسے اس دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا جس دن کوئی اور سایہ نہ ہوگا (۱)مشقت کے وقت کامل وضو کرنا(۲)اندھیری رات میں مسجدکی طرف چلنا (۳)بھوکے کو کھانا کھلانا۔''
(ترمذی ،کتا ب صفۃ القیامۃ، رقم ۲۵۰۲ ،ج۴ ،ص ۲۲۲)
(۶۱۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے دریافت فرمایا، ''آج تم میں کس نے روزہ رکھا ؟'' حضرتِ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا ،'' میں نے ۔''پھر فرمایا ،'' تم میں سے آج مسکین کو کس نے کھانا کھلا یا ؟'' حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا ،''میں نے ۔''پھر فرمایا ،'' تم میں سے آج مریض کی عیادت کس نے کی؟'' حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا،''میں نے ۔'' پھر فرمایا،'' آج تم میں سے جنازے کے ساتھ کو ن گیا؟'' حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا،''میں گیاتھا ۔''پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''جس شخص میں یہ چار خصلتیں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔''
(مسلم ،کتاب فضائل صحا بہ رضی اللہ عنہ ،باب من فضائل ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ ،رقم ۱۰۲۸، ص۱۳۰۱)
(۶۱۱)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا، ''اے ابن آدم! میں بیمارہوا تو تُونے میری عیادت کیوں نہ کی؟'' بندہ عرض کریگا،'' اے اللہ عزوجل! میں تیری عیادت کیسے کرتا تُو تو ربُّ العٰلمین ہے۔''اللہ تعالیٰ فرمائے گا ،''کیا تُو نہ جانتا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیما رہے پھر تُونے اس کی عیا دت نہیں کی؟کیا تُو نہیں جانتا تھاکہ اگر تُواس کی عیادت کرنے کیلئے جاتا تو مجھے اس کے پاس پاتا ؟'' پھر فرمائے گا ،''اے ابن آدم !میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تُونے مجھے کھانا کیوں نہ کھلایا؟ ''بندہ عرض کریگا،'' اے رب عزوجل! میں تجھے کھاناکیسے کھلاتا تُو تو رب العٰلمین ہے ۔''اللہ عزوجل فرمائے گا،''کیا تُونہ جانتا تھا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا اور تونے اس کو کھانا نہ کھلایا، کیا تُو نہیں جانتا تھاکہ اگر تُو اسے کھانا کھلادیتاتو اس کا ثواب میرے پاس ضرور پالیتا۔''

     پھر اللہ عزوجل فرمائے گا ،''اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا تُونے مجھے کیوں نہ دیا ؟'' بندہ عرض کریگا،'' یارب عزوجل! میں تجھے پانی کیسے پلاتا تُو تو ربُّ العٰلمین ہے۔'' تو اللہ عزوجل فرمائے گا '' میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا توتُو نے اسے پانی نہ پلایا کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے پانی پلادیتا تو میرے پاس اس کا ثواب پاتا ۔''
(صحیح مسلم ،کتا ب البر والصلۃ ،با ب فضل عیا دۃ المریض ،رقم ۲۵۶۹ ،ص۱۳۸۹)
(۶۱۲)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی
Flag Counter