| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۶۰۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''بیشک اللہ عزوجل روٹی کے ایک لقمے اور کھجوروں کے ایک خوشے اورمساکین کے لئے نفع بخش اشیاء کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا (۱)گھر کے مالک کو جس نے صدقے کا حکم دیا (۲)اس کی زوجہ کو جس نے وہ چیز درست کرکے دی (۳)اس خادم کو جس نے مسکین تک وہ صدقہ پہنچایا ۔''پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ''اس اللہ عزوجل کی حمد ہے جو ہمارے خادموں کو نہیں بھولا۔ ''
( مجمع الزوائد، کتاب الزکاۃ ،باب اجر الصدقۃ رقم ۴۶۲۲،ج ۳، ص ۲۸۸ )
(۶۰۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوذررضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''بنی اسرائیل کے ایک عابد نے اپنی عبادت گاہ میں ساٹھ سال تک عبادت کی ۔پھر بارش ہوئی اور زمین سبز ہو گئی تو راہب اپنے صومعہ(یعنی عبادت گاہ) سے نکلا اور کہنے لگا کہ اگر میں نیچے اتر کر جاؤ ں تو شایدمجھے زیادہ بھلائی حاصل ہو۔پھر وہ نیچے اتراتو اپنے ساتھ ایک یا دو روٹی کے ٹکڑے بھی رکھ لئے ۔ایک جگہ اس کی ملاقات ایک عورت سے ہوئی وہ اس کے ساتھ باتیں کرنے لگا یہاں تک کہ زناکربیٹھا اور اس پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ پھر وہ نہانے کے لئے نہر کے پاس آیا تو ایک سائل اس کے پاس آیا تواس نے اسے دونوں روٹیاں اٹھا لینے کااشارہ کیا ۔ پھر اس عابد کا انتقال ہوگیا تو اس کی ساٹھ سالوں کی عبادت اور زنا کا وزن کیا گیا تو وہ زنا اس عبادت پر غالب آگیا پھر وہ دو روٹیا ں اس کی نیکیوں کے ساتھ رکھی گئیں تو وہ روٹیاں غالب آگئیں اور اسے بخش دیاگیا۔ ''
(الاحسان بترتیب ابن حبا ن، ذکر الخیر الدال علی ان الحسنۃ الواحدۃ قد جی بھا،رقم ۳۷۹،ج ۱ ،ص ۲۹۸ )
(۶۰۸)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا ابوسَعِیْد خُدْرِی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جو مؤمن کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلا ئے گا تواللہ عزوجل قیامت کے دن اسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جو کسی پیاسے مسلمان کو سیرا ب کریگاتواللہ عزوجل قیامت کے دن اسے پاکیزہ شراب پلائے گا اور جو کسی بے لباس مسلمان کو کپڑے پہنائے گاتواللہ عزوجل قیامت کے دن اسے جنتی لباس پہنائے گا ۔''
(ابو داؤد،کتا ب الزکاۃ، باب فی فضل سقی المائ، رقم ۱۶۸۲، ج ۲، ص ۱۸۰)
(۶۰۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''تین خصلتیں جس میں ہوں گی اللہ عزوجل اس پر اپنی رحمت فرمائے گا اور اسے اپنی جنت میں داخل فرمائے گا (۱)کمزور پر نرمی کرنا (۲)والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا (۳)غلاموں کے ساتھ بھلائی کا