Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
226 - 736
گناہوں کے کفارے ہیں۔ ''
   ( مستد ر ک، کتاب الا طعام، باب فضیلۃ اطعام اطعام،رقم ۷۲۵۵، ج ۵ ،ص ۱۷۸ )
(۶۰۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنااَنس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''سب سے افضل صدقہ بھوکی جان کو شکم سیر کرنا ہے۔ ''
   (شعب الایمان، فصل فی الطعام، باب فی الزکاۃ ،رقم ۳۳۶۷ ،جلد ۳، ص ۲۱۷)
(۶۰۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنامعاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جس نے کسی بھوکے مؤمن کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا تو اللہ عزوجل اسے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے سے داخل فرمائے گا جس سے اُسی جیسے لوگ داخل ہوں گے۔ ''
        (طبرانی کبیر، رقم ۱۶۲،جلد ۲۰، ص۸۵ )
(۶۰۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''بھوکے مسلمان کو کھانا کھلاناجنت کو واجب کرنے والے اعمال میں سے ہے۔''ایک اور روایت میں ہے کہ،'' بھوکے مسلمان کو کھانا کھلانا رحمت کو واجب کرنے والے اعمال میں سے ہے۔''
(الترغیب والترہیب، کتاب الصدقات، باب الترغیب فی اطعا م وسقی الماء ،رقم ۹، ج۲ ،ص ۳۵)
(۶۰۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگا ہ میں حاضر ہوکر عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے ایسا عمل سکھائيے جو مجھے جنت میں داخل کردے'' توفرمایا، '' تم نے چھوٹے سوال سے بہت بڑا مسئلہ پوچھ لیا ،غلام آزاد کرو اگر اس کی استطاعت نہ ہوتو بھوکے کو کھانا کھلا دیا کرو اور پیاسے کو پانی پلادیا کرو ۔''
(شعب الایمان ،باب فی العتق ووجہ التقر ب الی اللہ عزوجل ،رقم ۴۳۳۵ ،ج۴ ،ص ۶۵)
(۶۰۵)۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، '' اللہ عزوجل تم میں سے کسی کے لئے کھجور یا لقمہ کی اس طر ح نگہداشت فرماتاہے جس طرح کہ تم اپنے مویشی یا اونٹنی کے بچے کی پرورش کرتے ہو ،یہاں تک کہ وہ کھجور یا لقمہ اُحد پہاڑ جنتا ہوجاتاہے ۔''
    (الاحسان بترتیب ابن حبا ن کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ التطوع، رقم۳۳۰۶،ج۴ ،ص ۱۳۴ )
Flag Counter