Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
222 - 736
(۵۹۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''کیا تم میری بیعت کرو گے تمہیں جنت دی جائے گی۔''میں نے عرض کیا،'' ہاں۔'' پھر میں نے اپنا ہاتھ بڑھا دیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے شرط لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا،''کیا تم اس چیز پر بیعت کرتے ہو کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگو گے ۔'' میں نے عرض کی ،''جی ہاں!'' ارشاد فرمایا ،''اور اگر تمہار اکوڑا بھی نیچے گر جائے تو اتر کر خود ہی اٹھاؤ گے۔'' میں نے عرض کی ،''جی ہاں۔''
 (مسند احمد بن جنبل ،رقم ۲۱۵۶،ج ۸، ص ۱۱۹ )
(۵۹۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابواُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''میری بیعت کون کریگا ؟تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے غلام حضرتِ سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم سے بیعت لے لیجئے۔'' ارشادفرمایا،'' اس بات کی کہ کسی سے کچھ نہ مانگو گے۔'' حضرتِ سیدنا ثوبان نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو یہ بیعت کرلے اسے کیا ملے گا؟'' فرمایا ،''جنت'' ''تو حضرتِ سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعت کرلی ۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ،'' میں نے انہیں مکے میں لوگوں کے ایک بہت بڑے اجتماع میں دیکھا کہ ان کا کوڑا نیچے گرگیا اور وہ گھوڑے پر سوار تھے، وہ کوڑا ایک شخص کے کندھے پر گرا اس شخص نے وہ کوڑا آپ رضی اللہ عنہ کو پیش کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے نہ لیا بلکہ گھوڑے سے اترے پھر وہ کوڑا پکڑا ۔''
    (طبرانی کبیر،رقم ۷۸۳۲، ج ۸، ص ۲۰۶ )
Flag Counter