| جنت میں لے جانے والے اعمال |
لوگو ں سے کرو اور بہتر صدقہ غناکی حالت میں دیا جانے والاصدقہ ہے اور جو پاکدامنی چاہے گا اللہ عزوجل اسے پاکدامن بنا دے گا اور جو غنی ہونا چاہے گا اللہ عزوجل اسے غنی بنادے گا ۔''
(بخاری، کتاب الزکاۃ ،با ب لا صدقۃ الاعن ظھر غنی ،رقم ۱۴۲۷ ،ج ۱ ،ص ۴۸۲)
(۵۸۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عطا فرمایا انہوں نے پھر سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے انہیں پھر عطا فرمایا انہوں نے پھر سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے انہیں پھر عطا فرمایا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت جو کچھ موجود تھا ختم ہوگیا تو آپ نے فر مایا ،''میرے پاس جو بھلائی ہوگی میں اسے تم سے نہ چھپاؤں گا، جوپاکدامنی چاہے گا اللہ عزوجل اسے پاکدامن فرمائے گااور جو لوگوں سے بے پرواہ ہوگا اللہ عزوجل اسے غنی کردے گااور جو صبر کو اپنائے گا اللہ عزوجل اسے حقیقی صبرعطافرمائے گااور اللہ عزوجل نے صبر سے زیا دہ وسعت والی کوئی بھلائی کسی کو عطا نہ فرمائی ۔ ''
(بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الا ستعفا ف عن المسالۃ، رقم ۲۹ ۱۴،ج ۱، ص ۴۹۶ )
(۵۸۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''مجھ پر جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تین شخص اور سب سے پہلے جہنم میں داخل ہو نے والے تین شخص پیش کئے گئے، سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والوں میں ایک تو شہید ہے اور دوسرا وہ غلا م جس نے اپنے رب کی عبادت کی اور اپنے آقاکی خدمت میں کوئی کمی نہ چھوڑی اور تیسرا وہ عیال دا رجو پاکدامن ہو اور جہنم میں داخل ہونے والے پہلے تین شخص یہ ہیں،(۱)زبردستی بادشاہ بن جا نے والا (۲)وہ مالدار شخص جو اپنے مال میں سے اللہ عزوجل کا حق ادا نہیں کرتا (۳)متکبر فقیر ۔''
(التر غیب والترہیب،کتاب النکاح ،باب التر غیب فی التفقۃ علی الزوجۃ والعیال، رقم ۳ ، ج ۳، ص ۴۱ )
(۵۸۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ کسی سے سوال نہ کر ے گا تومیں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔''حضرتِ سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ'' میں ضمانت دیتاہوں۔'' لہذاآپ رضی اللہ تعالی عنہ کسی سے کچھ نہ مانگا کرتے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ اگر حضرتِ سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ گھوڑے پر سوار ہوتے اور آپ کا کوڑا نیچے گر جا تا تو کسی سے اٹھانے کے لئے نہ کہتے بلکہ گھوڑے سے نیچے اتر کر خود ہی کوڑا اٹھا تے تھے ۔''
(ابن ماجہ ، کتاب الزکاۃ، باب کراھیۃ المسئلۃ،رقم ۱۸۳۷،ج ۲، ص ۴۰۱ )