Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
220 - 736
کردے گا۔''تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ اب تو میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے کچھ نہیں مانگوں گا۔''
( مجمع الزوا،ئد، کتاب الزکاۃ، با ب ماجاء فی السوال ،رقم ۴۵۱۳، ج ۳، ص ۲۵۴ )
(۵۸۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سہیل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جبرئیل علیہ السلا م نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !جتنا چاہیں زندہ رہیں بالآخر موت آنی ہے اورجو چاہے عمل کریں بالآخر حساب کتاب ہونا ہے اور جس سے چاہیں محبت کریں بالآخر اس سے جدا ہونا ہے او ر جان لیں کہ مؤمن کاکمال رات کو قیام کر نے میں ہے اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیاز ہونے میں ہے ۔''
     (طبرانی اوسط ، با ب العین ،رقم ۴۲۷۸،ج ۳ ،ص ۱۸۷ )
(۵۸۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''غنی وہ نہیں جس کے پاس کثیر مال ہو بلکہ غنی تو وہ ہے جس کا نفس غنی ہو ۔''
( مسلم ، کتاب الزکاۃ، باب لیس الغنی عن کثرۃ العر ض، رقم ۱۰۵۱،ص ۵۲۲ )
(۵۸۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ذررضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھ سے فرمایا، ''اے ابو ذر !کیا تم کثرت مال ہی کو غنا سمجھتے ہو؟'' میں نے عرض کیا،'' جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!'' توارشادفرمایا ، ''کیاتم قلتِ مال ہی کو فقر سمجھتے ہو؟'' میں نے عرض کیا،''جی ہاں! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !''تو ارشاد فرمایا،'' اصل غناء تو دل کی غناء ہے اور اصل فقر تو دل کا فقر ہے۔''
(صحیح ،ابن حبان، کتاب الرقا ئق، باب الفقر والزھد والقناعۃ، رقم ۲۸۴، ج ۲، ص ۳۷ )
(۵۸۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ''بیشک اللہ تبارک وتعالی نرم دل ،پاک دامن غنی کو پسند فرماتا ہے اور سنگدل ، بدکردار سائل کو نا پسند فرماتاہے ۔''
(مجمع الزوائد، کتاب الادب، باب فی اثبخ الجعول والبذئی والفاجر،رقم ۱۳۰۲۷،ج۸ ،ص ۱۴۵ )
(۵۸۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے منبر پر بیٹھ کرصدقہ دینے اور سوال نہ کرنے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا، ''اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے کیونکہ اوپر والا ہا تھ سوال نہیں کرتا جبکہ نیچے والا ہاتھ سوالی ہے۔''
(مسلم ، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان الیدا لعلیا خیر من الید السفلی ،رقم ۱۰۳۳،ص ۵۱۵)
(۵۸۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، صدقہ کی ابتداء اپنے زیر کفالت
Flag Counter