Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
219 - 736
قناعت ،صبراور اللہ عزوجل پر توکل کا ثواب
اللہ تعالی فرماتا ہے،
لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ ضَرْبًا فِی الۡاَرْضِ ۫ یَحْسَبُہُمُ الْجَاہِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ۚ تَعْرِفُہُمۡ بِسِیۡمٰہُمْ ۚ لَا یَسْئَلُوۡنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنْ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿273﴾٪
ترجمہ کنزالایمان :ان فقیروں کے لیے جو راہِ خدامیں روکے گئے زمین میں چل نہیں سکتے نادان انہیں تو نگر سمجھے بچنے کے سبب تو انہیں ان کی صورت سے پہچان لے گا لوگو ں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑگڑانا پڑے اور تم جو خیرات کرو اللہ اسے جانتا ہے۔''(پ 3، بقرۃ :273)

اور اللہ تعالی فرماتاہے ،
فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً
ترجمہ کنزالایمان :تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے ۔(پ14، النحل : 97)

حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں،'' اس آیت کریمہ میں حَیٰوۃً طَیِّبَۃً سے مرا د قناعت ہے ۔''

(۵۷۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عَمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جو اسلام لایا اوراسے بقدرِ کفایت رزق دیا گیا اور اللہ عزوجل نے اسے قناعت کی توفیق عطافرمائی تووہ فلاح پاگیا۔''
(ترمذی ،کتاب الزھد، باب ماجاء فی الکفاف والصبر علیہ ،رقم ۲۳۵۵ ،ج ۴، ص ۱۵۶ )
(۵۷۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا فضالہ بن عبیدرضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،'' جسے اسلام کی ہدایت دی گئی اوربقدرِ کفایت رزق دیا گیا اوراس نے اسی پر قناعت اختیا رکی اس کے لئے خوش خبر ی ہے ۔''
(تر مذی ، کتاب الزھد ،باب ماجاء فی الکفاف والصبر علیہ، رقم ۳۳۵۶،ج ۴، ص ۱۵۶ )
(۵۷۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابررضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''قناعت ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔''
  (کتاب الزھد للبیھقی ، رقم ۱۰۴، ص۸۸)
(۵۸۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے میرے ساتھ ایک وعدہ فرمایا تھا۔ جب قریظہ فتح ہو ااور میں سرورِ کونین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ وہ مجھے اپنے وعدے کے مطابق کچھ عطا فرمائیں تو میں نے انہیں فرماتے ہوئے سناکہ جو لوگوں سے بے نیازی اختیار کریگا اللہ عزوجل اسے غنی کردے گا، اور جو قناعت اختیا ر کریگا اللہ عزوجل اسے راضی
Flag Counter