Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
216 - 736
چھپا کرصدقہ د ینے کا ثواب
اللہ عزوجل فرماتاہے،
اِنۡ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ ۚ وَ اِن تُخْفُوۡہَا وَتُؤْتُوۡہَا الْفُقَرَآءَ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْ ؕ وَیُکَفِّرُ عَنۡکُمۡ مِّنۡ سَیِّاٰتِکُمْ ؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿271﴾
ترجمہ کنزالایمان :اگر خیرات علانیہ دو تو وہ کیاہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقیروں کودو یہ تمہارے لیے سب سے بہتر ہے اور اس میں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں گے اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔''(پ 3 ، البقرۃ : 271)

ایک اورمقام پر ارشاد فرمایا
اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمۡ بِالَّیۡلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿274﴾
ترجمہ کنزالایمان :وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے اور ظاہر ان کے لیے ان کانیگ (انعام) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہونہ کچھ غم ۔''(پ3 ،البقرۃ :274)

    منقول ہے کہ یہ آیت امیر المومنین حضرتِ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں نازل ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس صرف چار درہم تھے ایک درہم آپ رضی اللہ عنہ نے رات کو صدقہ کردیا اور ایک دن کو، ایک درہم چھپاکر صدقہ کیا اور ایک درہم اعلانیہ صدقہ کیا ۔ ''
  (الدر المنثور ، البقرۃ : ۲۷۴، ج ۲ ، ص ۱۰۰)
(۵۷۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ، ''سات افراد ایسے ہیں کہ اللہ عزوجل انہیں اپنے عرش کے سائے میں اس دن جگہ دے گا جس دن اللہ عزوجل کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، (۱)عادل حکمران(۲)وہ نوجوان جس نے اللہ عزوجل کی عبادت میں اپنی زندگی گزار دی (۳)وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہے(۴)وہ دو شخص جو اللہ عزوجل کی رضا کے لئے محبت کرتے ہوئے جمع ہوئے اور محبت کرتے ہوئے جدا ہوگئے (۵)وہ شخص جسے کوئی صاحب مال وجمال عورت گناہ کیلئے بلائے اور وہ کہے کہ میں اللہ عزوجل سے ڈرتا ہوں(۶)وہ شخص جو اسطرح چھپاکر صدقہ دے کہ اسکے دائیں ہاتھ نے جو صدقہ دیا بائیں ہاتھ کو اس کا پتہ نہ چلے (۷)وہ شخص جس کی آنکھیں تنہائی میں اللہ عزوجل کا ذکر کرتے ہوئے بہہ پڑیں۔''
(بخاری ، کتاب الاذان، باب عن جلس فی المسجد ینتظر صلوۃ،رقم ۶۶۰،ج ۱، ص ۲۳۶ )
Flag Counter