| جنت میں لے جانے والے اعمال |
المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''بیشک اللہ تعالی تمہارے پھلوں اور کھانے میں اضافہ کرتا رہتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے یا اونٹنی کے بچے کی پرورش کرتاہے یہاں تک کہ وہ مال (بارگاہِ خداوندی)میں اُحد پہاڑ جتنا ہوجاتا ہے۔'
( طبرانی المعجم الاوسط ، عن عا ئشۃ،رقم ۴۲۲۸،ج۳، ص ۱۷۳ )
(۵۴۹)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو بَرْزَہ اَسْلَمِی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''بندہ جب اپنے بچے ہوئے کھانے میں سے صدقہ کرتاہے تو اللہ عزوجل اس میں اضافہ فرماتا رہتا ہے یہاں تک وہ اُحد پہاڑ کی مثل ہوجاتاہے۔''
(مجمع الزوائد،کتاب الزکاۃ،باب فضل الصدقہ ،رقم۴۶۱۵ ،ج۳ ،ص ۲۸۶ )
(۵۵۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''بیشک اللہ عزوجل روٹی کے ایک لقمے اور کھجوروں کے ایک خوشے اور مساکین کے لئے نفع بخش دیگر اشیاء کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، (۱)گھر کے مالک کو جس نے صدقے کا حکم دیا (۲)اس کی زوجہ کو جس نے اسے درست کرکے خا دم کے حوالے کیا (۳)اس خادم کو جس نے مسکین تک وہ صدقہ پہنچایا ۔''
مجمع الزوائد، کتاب الزکاۃ ،باب اجر الصدقۃ، رقم ۴۶۲۲ ، ج۳، ص ۲۸۸ )
(۵۵۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ، ''عنقریب تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اللہ عزوجل اس طرح کلام فرمائے گا کہ دونو ں کے درمیان کو ئی ترجمان نہ ہوگا تووہ بندہ اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو جو کچھ اس نے آگے بھیجا وہ اسے نظر آئے گا،جب وہ اپنے بائیں جانب دیکھے گا تو اسے وہی نظر آئے گا جو اس نے آگے بھیجا ،اپنے سامنے دیکھے گا تو اسے آگ نظر آئے گی تو اس آگ سے بچو اگر چہ ایک کھجور کے ذریعے ہو۔''اور ایک روایت میں ہے تم میں سے جوآگ سے بچ سکے اگرچہ ایک ہی کھجور کے ذریعے تو اسے چاہیے کہ ضرور بچے ۔''
(مسلم ، کتاب الزکاۃ،باب الحث علی الصدقۃ ولو یشق تمرۃ،رقم ۱۰۱۶، ص ۵۰۷ )
(۵۵۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے چہرے کو آگ سے بچائے اگرچہ ایک ہی کھجور کے ذریعے ہو۔''
(مجمع الزوائد،باب الحث علی الصدقۃ،رقم ۴۵۸۰ ، ج۳ ،ص ۲۷۵ )