Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
209 - 736
دینے پر بھی تیرا شکر ہے۔'' اس نے پھرکہا کہ میں صدقہ دوں گا اور اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک غنی کے ہاتھ پر رکھ آیا۔ پھر صبح کو کہا جانے لگا کہ گزشتہ رات ایک غنی کو صدقہ دے دیا گیا ۔تو اس نے کہا''اے اللہ عزوجل!غنی ،چوراور زانیہ کو صدقہ دینے پر تیرا شکر ہے۔'' پھر اس کے پاس ایک آنے والا آیا اور اس سے کہا،'' جو صدقہ تم نے چور کو دیا شاید اس کی وجہ سے وہ چوری سے باز آجائے اور جو صدقہ تم نے زانیہ کو دیا شاید اس کی وجہ سے وہ اپنے زنا سے باز آجائے اور جو صدقہ تم نے غنی کو دیا شاید وہ اس سے عبرت پکڑے اور اللہ عزوجل کے عطا کئے ہوئے مال سے خرچ کرنے لگے۔ ''اور ایک روایت میں ہے کہ اس سے کہا گیا کہ تیرا صدقہ قبول ہوگیا۔
   (بخاری ، کتاب الزکاۃ،باب اذا تصدق علی غنی، رقم ۱۴۲۱،ج۱، ص ۴۷۹ )
(۵۴۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''تم میں سے کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ پسند ہے ''۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم میں سے ہر ایک کو اپنا مال زیا دہ پسند ہے۔'' فرمایا ،''تمہارامال تو وہ ہے جسے تم آگے بھیج چکے (یعنی صدقہ کر چکے)اور جو تم نے چھوڑا وہ تو وارث کامال ہے ۔''
(بخاری، کتاب الرقاق ،باب ماقدم من مالہ فھولہ، رقم ۶۴۴۲ ، ج۴، ص ۲۳۰ )
(۵۴۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے ایک کھجور کی مقدار اپنے حلال مال سے صدقہ کیا (کیونکہ اللہ تعالی صرف حلال کو قبول فرماتاہے) تو اللہ عزوجل اسے اپنے دستِ قدرت سے قبول فرمالے گا،پھر اس کے مالک کے لئے اس میں اضافہ فرماتارہے گا جس طر ح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ ایک لقمہ' احد پہاڑ جتنا ہو جائے گا اور میری اس با ت کی تصدیق قرآن پاک میں اس طر ح کی گئی ہے ''
ہُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ
ترجمہ کنزالایمان : اللہ ہی اپنے بندوں کی تو بہ قبول کرتااور صدقے خود اپنے دست قدرت میں لیتاہے ۔(پ 11، تو بہ: 104)

     اور اللہ تعالی فرماتاہے
یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ
ترجمہ کنزالایمان :اللہ ہلا ک کرتاہے سود کو اور بڑھاتاہے خیرات کو ۔( پ 3، البقر ہ: 276)

     اور ایک روایت میں ہے کہ جب بندہ اپنے حلا ل مال سے صدقہ کرتاہے تو اللہ عزوجل اسے قبول فرماتاہے اور اپنے دست قدرت میں لے لیتاہے۔پھراس کی اس طرح پرو رش فرماتاہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتاہے یہا ں تک کہ وہ صدقہ احد پہاڑ جتنا ہوجاتاہے۔''
   (بخاری،کتاب الزکاۃ، باب الصدقہ من کسب طیب ،رقم ۱۴۱۰،ج۱، ص ۴۷۶ )
(۵۴۸)۔۔۔۔۔۔ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ
Flag Counter