| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۵۴۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں،''مجھے بتایا گیا ہے کہ اعمال ایک دوسرے پر فخر کرتے ہیں تو صدقہ کہتا ہے کہ میں تم سب سے افضل ہوں۔''
(ابن خزیمہ،کتاب الزکاۃ،باب فضل الصدقہ علی غیر ھا الخ، رقم ۲۴۳۳،ج۴، ص ۹۵ )
(۵۴۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنااَنس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے او ران کا سب سے پسندیدہ مال بَیْرُحَاء کے نام کا ایک کھجور کابا غ تھا جو کہ مسجد نبوی شریف کے سامنے ہی تھا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اس میں داخل ہوتے اور صاف پانی نوش فرماتے تھے۔ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ
ترجمہ کنزالایمان :تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچوگے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ (پ4، اٰل عمران :92)
حضرتِ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ حضور اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تبارک وتعالی فرماتاہے:لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ
ترجمہ کنزالایمان :تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچوگے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو۔ (پ4، اٰل عمران :92)
اور بیشک میرا سب سے زیادہ محبوب ترین مال بیرحاء ہے اور میں اسے صدقہ کرتاہوں اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس کے اجر وثواب کا امید وار ہوں ، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اسے وہاں خرچ کردیجئے جہاں اللہ عزوجل فرمائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ''بہت خوب یہ ایک نفع بخش مال ہے ،بہت خوب یہ ایک نفع بخش مال ہے ۔''(بخاری ، کتاب الزکاۃ،باب الزکاۃ علی الاقارب،رقم ۱۴۶۱،ج۱، ص ۹۳ ۴ )
(۵۴۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''ایک شخص نے کہاکہ میں ضرور صدقہ کروں گا ۔''پھر وہ اپنا صدقہ لے کر گھرسے نکلا اور اسے ایک چور کو دے بیٹھا۔ صبح کے وقت لوگوں میں باتیں ہونے لگیں کہ گزشتہ رات ایک چور کو صدقہ دے دیا گیا۔ یہ سن کر اس نے کہا''یا اللہ عزوجل!چور کو صدقہ دینے پر بھی تیرا شکر ہے۔'' پھر اس نے کہاکہ میں ضرورصدقہ دوں گا اور رات کے وقت صدقہ لیکر نکلا اور اسے ایک زانیہ کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ پھر صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ گزشتہ رات ایک زانیہ کو صدقہ دے دیا گیا ۔اس نے کہا ،''اے اللہ تعالی !زانیہ کو صدقہ