| جنت میں لے جانے والے اعمال |
تسلیم کرتاہے تو وہ خبیث ترین درجے میں ہے، (۴)وہ شخص جسے اللہ عزوجل نے نہ تو مال عطا فرمایا اور نہ ہی علم عطا فرمایا اور وہ کہتاہے اگر میرے پاس مال ہو تا تو میں فلاں کی طرح عمل کرتا تو ان دونوں کا گناہ برابر ہے۔''
(ترمذی ، کتاب الزھد، باب ماجاء مثل الدنیا مثل اربعۃ نفر، رقم ۲۳۳۲،ج ۴، ص ۱۴۵ )
(۵۳۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ ''صدقہ مال میں کمی نہیں کرتااور بندہ صدقہ دینے کیلئے جب اپنا ہاتھ بڑھاتاہے تو وہ سائل کے ہاتھ میں جانے سے پہلے اللہ عزوجل کے دستِ قدرت میں آجاتاہے اور جو بندہ بلاضرورت سوال کا دروازہ کھولتا ہے ، تواللہ عزوجل اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتاہے۔''
(المعجم الکبیر،رقم ۱۲۱۵۰ ، ج۱۱، ص ۳۲۰ )
(۵۳۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا،'' اے لوگو! مرنے سے پہلے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں تو بہ کرلو اور مشغولیت سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرلو اور اللہ عزوجل کا کثرت سے ذکر کرنےاورپوشید ہ اور ظاہر ی طور پر کثر ت سے صدقہ کے ذریعے اللہ عزوجل سے اپنا رابطہ جوڑ لوتو تمہیں رزق دیا جائے گا اور تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہاری مصیبتیں دور کی جائیں گی ۔''
(ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ، فی فرض الجمعۃ، رقم ۱،ج۲، ص ۵ )
(۵۳۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''ایک شخص کسی ویران جگہ سے گزررہا تھا تو اس نے بادل میں سے ایک آواز سنی کہ فلاں کے با غ کو سیرا ب کروتو وہ بادل جھک گیااور اس نے اپنا پانی ایک پتھریلی زمین میں بر سادیا تو وہاں کے نالوں میں سے ایک نالے میں وہ سارا پانی جمع ہوگیا اور ایک سمت بہنے لگا تو وہ شخص اس نالی کے ساتھ چل دیا تو اس نے دیکھا کہ وہ پانی ایک باغ میں داخل ہوا جہا ں ایک کسان کھڑا تھا تو اس نے اس کسان سے پوچھا ''اے اللہ تعالی کے بندے! تیرا نام کیا ہے؟'' اس نے کہا،'' فلاں'' یہ وہی نام تھا جو اس نے با دل سے آنے والی آواز سے سنا تھا۔ اس کسان نے کہا ،'' اے اللہ کے بندے! تو نے میر انام کیوں پوچھا ؟''تو اس شخص نے کہا،''جس بادل سے یہ بارش برس رہی ہے تیرانا م میں نے اس سے سنا ہے ،یہ بادل کہہ رہا تھا کہ فلاں کے باغ کو سیراب کرو، تُو اپنے کھیت میں ایساکیا کرتا ہے(کہ تیری زمین کو بادل نے سیراب کیا)؟ ''تو اس نے جوا ب میں کہا،'' جب تو نے یہ بات پوچھ ہی لی ہے تو سن لے کہ جو کچھ میرے اس باغ سے نکلتا ہے تو میں اس کے تین حصے کرلیتا ہوں ایک حصہ صدقہ کردیتا ہوں اور ایک حصہ خود کھاتاہوں اور اپنے عیال کو کھلا تاہوں اور تیسرے حصے کو اسی زمین میں کاشت