Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
205 - 736
(6)  وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ مِّنْ خَیۡرٍ تَجِدُوۡہُ عِنۡدَ اللہِ ہُوَ خَیۡرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا ؕ
ترجمہ کنزالایمان :اوراپنے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب کی پاؤگے''(پ29، المزمل: 20)
(7) وَ سَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقَی ﴿ۙ17﴾الَّذِیۡ یُؤْتِیۡ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی ﴿ۚ18﴾وَ مَا لِاَحَدٍ عِنۡدَہٗ مِنۡ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰۤی ﴿ۙ19﴾اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰی ﴿ۚ20﴾وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی ﴿٪21﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور بہت اس سے دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیز گا ر جواپنا مال دیتاہے کہ ستھرا ہو اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے اور بے شک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا۔''(پ 30، الیل: 17تا21)
اس بارے میں احادیث ِ مقدسہ :
(۵۳۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور اﷲ عزوجل بندے کے عفوو در گزر کے سبب اس کی عزت میں اضافہ فرمادیتاہے اور جو اللہ عزوجل کے لئے عاجزی اختیار کرتاہے اللہ عزوجل اسے بلندی عطافرماتا ہے۔''
(مسلم ،کتاب ابر والصلۃ،باب استحباب العفووالتواضع،رقم ۲۵۸۸،ص ۱۳۹۷ )
(۵۳۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوکَبْشَہ اَنْمَارِیرضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا، ''تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں اور میں تمہیں بتاتا ہوں ،تم اسے یا د کرلو کہ صدقہ مال میں کچھ کمی نہیں کرتا اور جو مظلوم ' ظلم پر صبر کرتاہے اللہ تعالی اس کی عزت میں اضافہ فرمادیتاہے اور جو بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے اللہ عزوجل اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ ''

    ایک روایت میں ہے کہ'' میں تمہیں ایک بات بتاتا ہو ں تم اسے یا د کرلو، ''دنیا چار طرح کے لوگوں کے لئے ہے ،(۱)وہ بندہ جسے اللہ تعالی نے مال اور علم عطافرمایااور وہ اس معاملے میں اللہ عزوجل سے ڈرتاہے اور صلہ رحمی کرتاہے اور اپنے مال میں سے اللہ عزوجل کا حق تسلیم کرتاہے تو یہ بندہ سب سے افضل مقام میں ہے،(۲)جسے اللہ تعالی نے علم عطا فرمایا ،مال عطا نہیں فرمایا مگر اس کی نیت سچی ہے اور وہ کہتا ہے اگر اللہ عزوجل مجھے مال عطا فرماتاتو میں فلاں کی طر ح عمل کرتا تو اسے اس کی نیت کے مطابق ثواب دیا جائے گا اوران دونوں کا ثواب برابر ہے،(۳)وہ بندہ جسے اللہ عزوجل نے مال عطافرمایا اور علم عطا نہ فرمایا اور وہ علم کے بغیر خرچ کرتاہے اور اس معاملے میں اپنے رب عزوجل سے نہیں ڈرتا اور نہ صلہ رحمی کرتاہے اور نہ ہی اپنے مال میں اللہ عزوجل کا حق
Flag Counter