Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
202 - 736
خوشدلی سے زکوٰۃادا کرنے کا ثواب
(۵۲۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''جو ایمان کے ساتھ ان پانچ چیزوں کو بجالایا جنت میں داخل ہوگا ،جس نے پانچ نَمازوں کی ان کے وضو اور رکوع اورسجود اوراوقات کے ساتھ پابندی کی اور رمضان کے روزے رکھے اور جس نے استطاعت ہونے پرحج کیا اور خوش دلی سے زکوٰۃ ادا کی۔ ''
  (مجمع الزوائد،کتاب الایمان ، فیما بنی علیہ الا سلام ، رقم ۱۳۹،ج۱،ص ۲۰۵ )
(۵۲۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن معاویہ الغاضری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے تین کام کئے اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا ،(۱)جس نے ایک اﷲ کی عبادت کی اور یہ یقین رکھا کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں (۲)جس نے خوشدلی سے ہر سال اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی (۳) جس نے زکوٰۃ میں بوڑھے اور بیمار جانو ریابو سید ہ کپڑ ے اور گھٹیامال کی بجائے اوسط درجے کا مال دیا کیونکہ اللہ عزوجل تم سے تمہارا بہترین مال طلب نہیں کرتا اور نہ ہی گھٹیا مال دینے کی اجازت دیتا ہے ۔''
 (ابوداؤد،، کتاب الزکاۃ ، فی زکاۃ السائمہ ،رقم ۱۵۸۲،ج۲، ص ۱۴۷ )
(۵۲۹)۔۔۔۔۔۔عبیدبن عمیرلیثی اپنے والد رضی اللہ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا، ''بیشک نَمازی اﷲ عزوجل کے اولیا ء ہیں اور وہ جس نے اللہ عزوجل کی فر ض کردہ پانچ نَمازیں قائم کیں اور رمضان کے روزے رکھے اوران کے ذریعے ثواب کی امید رکھی اور خوش دلی سے زکوٰۃ ادا کی اور اُن کبیر ہ گناہوں سے بچتا رہا جن سے اﷲ عزوجل نے منع فرمایا ہے۔ ''

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے عرض کیا ، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کبیرہ گناہ کتنے ہیں؟'' ارشاد فرمایا، ''نو(۹)ہیں، ان میں سب سے بڑا گناہ کسی کو اﷲ عزوجل کا شریک ٹھہرانا ہے اور( بقیہ گناہوں میں سے )کسی مؤمن کوناحق قتل کرنا، میدانِ جہاد سے فرار ہونا، پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، جادو کرنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنااور بیت الحرام جو تمہارے زندوں اور مُردوں کا قبلہ ہے،کو حلال سمجھنا (یعنی اس کی حرمت کو پامال کرنا ) لہذا!جو شخص ان کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے اور نَماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے پھرمر جائے تو وہ ' جنتی محل میں محمد)) کارفیق ہوگا جس کے دروازے سونے کے ہوں گے ۔''
     (المعجم الکبیر ، رقم ۱۰۱،ج۱۵ ۔۱۷، ص ۴۸ )
Flag Counter