| جنت میں لے جانے والے اعمال |
سے زیادہ پسند تھی پھر ارشاد فرمایا،'' جو شخص پانچوں نَماز یں ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے اور اپنے مال سے زکوٰۃ نکالے اور سات کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے ،اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اوراس سے کہا جاتا ہے کہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔''
(نسائی ،کتا ب الزکاۃ، با ب وجوب الزکاۃ،ج۳، ص ۸ )
(۵۱۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم!مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتایئے جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کردے'' تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، ''بیشک تم نے ایک عظیم چیز کے بارے میں سوال کیا ہے اور یہ کام اسی کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ عزوجل اسے آسان کرے ۔'' پھر فرمایا ،''تم اللہ تعالی کی عبادت اس طرح کروکہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤاور نَماز ادا کرو اور زکوٰۃ ادا کرواور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔''
(ترمذی ،کتاب الصلوٰۃ، ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، کتاب الایمان، رقم ۲۶۲۵،ج۴، ص ۲۸۰ )
(۵۱۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا، ''تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دوتو میں تمہیں جنت کی ضمانت دے دوں گا۔ ''میں نے عرض کیا ، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ چھ چیزیں کون سی ہيں ؟ ''ارشاد فرمایا ، ''نَمازاداکرنا، زکوٰۃ دینا، امانت لوٹانا ، شرمگاہ، پیٹ ، اور زبان کی حفاظت کرنا۔''
(مجمع الزوائد ، باب فر ض الصلاۃ،رقم ۱۶۱۷،ج ۲، ص۲۱)
(۵۲۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابررضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا،''یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم !آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اپنے مال میں سے زکوٰۃ نکالی ؟ '' رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، ''جس نے اپنے مال میں سے زکوٰۃ ادا کی تو اس مال کا شر اس سے دور ہوجائے گا۔
(المعجم الاوسط طبرانی، با ب الالف، رقم ۱۵۷۹، ج ۱ ،ص۴۳۱)
''امام حاکم رضی اللہ تعالی عنہ نے اس حدیث کو مختصراً یوں روایت کیا ہے، ''جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرلو گے تو تم نے اپنے آپ سے اس مال کے شر کو دور کر دیا ۔''
(مستدرک ،کتاب الزکاۃ،باب التغلیظ فی منع الزکاۃالخ، رقم ۱۴۷۹،ج۲، ص ۸ )
(۵۲۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو تم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اور جس نے مال حرام جمع کیا پھر اس میں سے صدقہ نکالا تو اسے اس پر کوئی ثواب نہ ملے گا اور اس کا گناہ اس پر باقی رہے گا۔''
(الترغیب والترہیب ، کتاب الصدقات ، باب فی اداء الزکاۃ،رقم۱۰،ج۱ ،ص ۳۰۱)