(۵۱۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہِ اقدس میں عرض کیا کہ مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے۔ '' تو سرکا رمدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''اللہ تعالی کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤاور نَماز ادا کرو اور زکوٰۃدیا کرو اور صلۂ رحمی کیا کرو۔''
(بخاری ،کتاب الزکاۃ،باب وجوب الزکاۃ ، رقم ۹۶ ۱۳،ج۱، ص ۴۷۱ )
(۵۱۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ایک اَعرابی سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا ،''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ایسے عمل کی طرف میری راہنمائی فرمائیے کہ جب میں وہ عمل کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں ''تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ، ''اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ کسی کواس کا شریک نہ ٹھہراؤ او ر فرض نَماز ادا کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور رمضان کے روزے رکھا کرو۔ '' یہ سن کر اعرابی نے کہا '' اس ذات پاک کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اس پر زیادتی نہ کروں گا۔'' پھر جب وہ اَعرابی لوٹا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ''جو کسی جنتی کو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۔ ''
(بخاری ، کتاب الزکاۃ،باب وجوب الزکاۃ، رقم ۹۷ ۱۳،ج۱، ص ۴۷۲ ،)
(۵۱۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہيں کہ بنوتمیم میں سے ایک شخص نے اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا،'' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میں ایک مالدار شخص ہوں اورمیرے اہل خانہ کی تعدا د بھی کثیر ہے، آپ ارشا د فرمایئے کہ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ کیسا سلوک کروں اور اپنامال کس طر ح خر چ کروں؟'' تو آپ نے فرمایا، ''تم اپنے مال میں سے زکوٰۃ نکالا کرو بیشک زکوٰۃ ایک ایسی پاکیزگی ہے جو تمہیں پاک کردے گی اور اپنے عزیزوں کے ساتھ صلۂ رحمی کیا کرو اور مسکین اور پڑوسی اور سائل کے حق کو پہچانو۔''
(مسند احمد ،مسند انس بن مالک، رقم ۱۲۳۹۷،ج ۴، ص ۲۷۳ )
(۵۱۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ابو سَعِیْد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک دن ہمیں خطبہ دیتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا،'' قسم ہے اس ذات کی! جس کے دست قدرت میں میری جا ن ہے۔'' پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سرِ اقدس کو جھکا لیا تو ہم میں سے ہر شخص نے اپنا سر جھکا لیا اور رونے لگاحالانکہ ہم نہیں جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حلف کیوں اٹھایا؟ پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر انور اٹھایا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر ایسی مسرت تھی جو ہمیں سرخ اونٹوں