(7) وَمَاۤ اٰتَیۡتُمۡ مِّنۡ زَکٰوۃٍ تُرِیۡدُوۡنَ وَجْہَ اللہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوۡنَ ﴿39﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور جو تم خیرات دو اللہ کی رضاچاہتے ہوئے توانہیں کے دونے ہیں ۔(پ 21، الروم : 39)
(8)۪ۙوَ الَّذِیۡنَ فِیۡۤ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوۡمٌ ﴿24﴾۪ۙلِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوۡمِ ﴿25﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے اس کے لئے جو مانگے اور جومانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے ۔(پ29،سورۃ المعارج :24،25)
(9) وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ حُنَفَآءَ وَ یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیۡنُ الْقَیِّمَۃِ ؕ﴿5﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہواکہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہوکر اور نَماز قائم کریں اور زکوۃ دیں اور یہ سید ھا دین ہے ۔(پ30،البینہ :5)
اس بارے میں احادیث ِ مبارکہ :
(۵۱۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے (۱)اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(صلي اللہ عليہ وسلم)اللہ کے بندے اور رسول ہیں ،(۲) نَماز قائم کرنا ،(۳) زکوٰۃ ادا کرنا، (۴) بیت اللہ کا حج کرنا