| جنت میں لے جانے والے اعمال |
عزوجل آپ کے ساتھ اسی طرح محبت کرے جیسے میں اس بچے سے محبت کرتاہوں۔'' پھر کچھ دن بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کونہ پایا تو اس کے بارے میں استفسارفرمایا کہ'' فلاں بن فلاں کے ساتھ کیا ہوا؟'' صحابہ کرام نے عرض کیا،''یارسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا تو انتقال ہوگیا ۔''تو سرکارصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کے باپ سے فرمایا ،'' کیا تو پسند کرتاہے کہ جب تو جنت کے کسی دروازے پر آئے تو اسے اپنا منتظر پائے؟''ایک شخص نے عرض کیا ،''یارسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ صرف انہی کے ساتھ خاص ہے یا ہم میں سے ہر ایک کے لئے ہے؟'' فرمایا،'' تم میں سے ہر ایک کیلئے ہے ۔''
(سنن نسائی،کتاب الجنائز،باب الامر بالاحتساب والصبر الخ، ج۴، ملخصاً )
ایک روایت میں ہے کہ سرورِکونین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم جب کسی جگہ تشریف فرماہوتے تو صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ایک گروہ بھی آپ کے ساتھ بیٹھ جاتا۔ ان میں ایک شخص کا ایک چھوٹا بچہ بھی تھا ،جو اس کے پیچھے سے آتا اور اس کے سامنے آکر بیٹھ جاتا ۔جب اس بچے کا انتقال ہوگیا تو اس شخص نے اپنے بچے کی یا د کی وجہ سے اس حلقے میں آنا چھوڑ دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اسے نہ پایا تو فرمایا کہ'' فلاں شخص کو کیا ہوا ؟''صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا کہ ''اس کا جوبچہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تھاوہ فوت ہوگیا ہے۔''
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے ملاقات فرمائی اور اس کے بچے کے بار ے میں پوچھا تواس نے عرض کیا ، ''اس کا انتقال ہو گیاہے۔'' تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے تعزیت کی ،پھر ارشاد فرمایاکہ ''تجھے ان باتوں میں سے کیا پسند ہے(۱)تُواپنی عمر میں اس سے نفع اٹھاتا(۲)یاجب بھی تُوجنت کے کسی دروازے پر جائے تو وہ تجھ سے پہلے وہاں موجود ہو اور تیرے لئے جنت کا دروازہ کھولے؟'' تو اس نے عرض کیا ''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے یہ پسند ہے کہ وہ جنت کے دروازے پر مجھ سے پہلے موجود ہو اور میرے لئے دروازہ کھولے۔'' توآپ نے ارشاد فرمایا ،'' تمہارے لئے یہی ہے۔''(مسند احمد، حدیث قرۃ المزنی مسند البصر یین، رقم ۲۰۳۸۷، ج۸ ،ص ۳۰۳)
(۵۰۹) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جس مسلمان جوڑے کے تین بچے انتقال کرجائیں اﷲ عزوجل ان دونوں میاں بیوی کو ان بچوں پر فضل ورحمت کرتے ہوئے جنت میں داخل فرمائے گا۔'' صحابہ کرام نے عرض کیا ،''اور دو بچے؟ ''فرمایا'' اور دو بچے۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا'' اور ایک؟'' فرمایا'' اور ایک'' پھر فرمایا،'' اس ذات پاک کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جس عورت کا کچا بچہ فوت ہوجائے (یعنی حمل ضائع ہوجائے) اور وہ اس پر صبر کرے تو وہ بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف کے ذریعے کھنچتا ہوا جنت میں لے جائے گا۔''
( مسند احمد ، حدیث معا ذ بن جبل مسند الانصار،رقم ۲۲۱۵۱،ج۸ ،ص ۲۵۴ )