| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۵۰۵) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سناکہ،''میری امت میں سے جس کے دوبچے پیشوائی کرنے والے ہونگے (یعنی فوت ہوچکے ہوں گے)،اﷲ عزوجل انکے سبب اسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔''ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے عرض کیا،'' اور جس کاایک بچہ پیشو ائی کے لیے گیاہو؟''تو ارشادفرمایا،'' اسکابچہ بھی اس کی پیشوائی کریگا۔''آپ نے پھر عرض کیا ،''آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں جس کی پیشوائی کیلئے کوئی نہ ہوتو؟'' فرمایا ،''تو میں ان کی پیشوائی کروں گا اور وہ میرے جیسا پیشواء ہرگز نہ پاسکیں گے۔ ''
(جامع الترمذی،باب ماجاء فی ثواب من قد م لہ ولدا ،کتاب الجنائز، رقم۱۰۶۴،ج۲، ص۳۳۳)
(۵۰۶) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سلمی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبئ اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ،'' خوب! بہت خوب! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان پانچ چیزوں کی طرف اشارہ فرمایا جو میزان پر سب سے زیادہ وزن والی ہیں
(۱)سُبْحَانَ اللہِ (۲)اَلْحَمْدُ ِﷲِ (۳)لَااِلٰہَ اِلَّا اﷲُ(۴)اَﷲُاَکْبَرُ
(۵)کسی مسلمان شخص کا نیک بچہ مرجائے اور وہ اس پر ثوا ب کی امید رکھتے ہوئے صبر کرے۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبان ، رقم ۸۳۰،ج۲،ص ۱۰۰ )
(۵۰۷) ۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جس شخص کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے انتقال کرگئے وہ اس کے لئے جہنم کی راہ میں مضبوط ترین رکاوٹ ہونگے۔''حضرتِ سیدنا ابو ذررضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کیاکہ ''میرے دو بچے آگے پہنچ چکے ہیں۔''فرمایا'' اور'' دو بچے(بھی )۔'' سید القراء حضرت ابی بن کَعْبْ رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کیا''میں اپناایک بچہ آگے بھیج چکا ہوں۔'' فرمایا'' اور ایک بچہ (بھی)۔''
گذشتہ صفحا ت میں حضرتِ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲتعالی عنہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ''جب کسی شخص کابچہ انتقال کرجاتاہے تواﷲ عزوجل اپنے فرشتوں سے فرماتاہے،'' کیا تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کرلی ؟''فرشتے عرض کرتے ہیں،'' اں'' تو اللہ عزوجل فرماتاہے ،''کیا تم نے اس کے دل کا ٹکڑا چھین لیا؟'' فرشتے عرض کرتے ہیں ''جی ہاں۔'' تواللہ عزوجل فرماتا ہے،'' تو پھر میرے بندے نے کیا کہا؟'' فرشتے عرض کرتے ہیں ،''اس نے تیری حمد کی اور''اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ0''
پڑھا ۔'' تو اللہ عزوجل فرماتاہے،'' میرے اس بندے کے لئے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بَیْتُ الْحَمْدْ رکھو ۔''
(ابن ماجہ، کتاب الجنائز، ماجاء فی ثواب من اصیب یولدہ ،۲ رقم ۱۶۰۶ ،ص ۲۷۲ )
(۵۰۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا قُرَّہ بن ایاس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنے بیٹے کے ساتھ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا کرتا تھا ۔نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا، ''کیا تُو اس سے محبت کرتاہے؟'' اس نے کہا ،'' جی ہاں یا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم! اللہ