| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۵۰۲) ۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا ابو حسان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کیا کہ'' میرے دو بچے مرچکے ہیں کیا آپ رضی اللہ عنہ مجھے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جود و سخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی کوئی ایسی حدیث نہیں سنائیں گے جو ہمیں اپنے مُردوں کے بارے میں مطمئن کردے؟'' فرمایا ''ہاں! سناتاہوں ،وہ بچے بلاروک ٹوک جنت میں جہاں چاہیں گے چلے جایا کریں گے۔ان میں سے جب کوئی بچہ اپنے والد یا والدین سے ملے گا تو ان کے کپڑے یا ہاتھ کو ایسے پکڑے گا جیسے میں نے تمہارے کپڑوں کے دامن کو پکڑرکھا ہے اور اسے اس وقت تک نہ چھوڑے گاجب تک کہ اﷲ عزوجل اس کے والد کو جنت میں داخل نہ فرمادے ۔''
(مسلم،باب، فضل من یموت لہ ولد ، رقم ۲۶۳۵،ص ۱۴۱۶)
(۵۰۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا، ''جس کے تین بچے مرجائیں پھر وہ ان پر صبر کرے تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔'' ہم نے عرض کیا ، ''یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم! اور دو بچے۔'' فرمایا'' اور دوبھی۔''
حضرتِ سیدنا محمودبن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا ''آپ کاکیا خیال ہے اگر آپ ایک کے بارے میں سوال کرتے تو کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم آپ کی تائید فرماتے ؟'' تو انہوں نے فرمایا،'' میرا خیال ہے کہ ضرور فرماتے۔''(مسند احمد ، مسند جابر بن عبداللہ ،رقم ۱۴۲۸۹،ج۵، ص ۳۵ )
(۵۰۴) ۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا ابو ثعلبہ اشجعی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ،'یا رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم !میرے دوبچے حالتِ اسلام میں انتقال کر گئے ہیں ۔''فرمایا،'' جس کے دو بچے اسلا م کی حالت میں فوت ہوگئے اﷲ عزوجل ان بچوں پراپنے فضل اوررحمت کی وجہ سے اس شخص کو جنت میں داخل فرمائے گا۔'' راوی کہتے ہیں کہ بعد میں جب میری حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کیا تم وہی ہو جس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے دو بچوں کے بارے میں عرض کیا تھا؟'' میں نے عرض کیا، ''ہاں!'' توفرمایا،'' اگر سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے وہ بشارت مجھے سنائی ہوتی تو یہ مجھے حمص اورفلسطین کی حکومت سے زیادہ پسند ہوتی ۔''
(مسند احمد، حدیث ابی ثعلبۃ الا شجعی ،رقم۲۷۲۸۹،ج۱۰، ص ۳۴۸ )