''وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا
ترجمہ کنزالایمان: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو ۔(پ ۱۶، مریم:۷۱)
لہذا حدیث مبارکہ کامعنی یہ ہوا کہ آگ اسے بالکل معمولی چھوئے گی تاکہ اللہ عزوجل کی قسم پوری ہوجائے لیکن اس سے انسان کو کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی واللہ تعالی اعلم۔
(۴۹۵) ۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت اپنے بچے کو لے کرحاضر ہوئی او ر عرض کیا ،''اے اﷲ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! میرے لئے دعا کیجئے کیونکہ میں اپنے تین بچوں کو دفنا چکی ہوں۔'' نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''کیا تُو تین بچوں کو دفنا چکی ہے ؟'' اس نے عرض کیا ، '' ہاں ۔'' فرمایا،''بے شک تو نے اپنے لئے آگ سے حفاظت کیلئے ایک مضبوط دیوار تیار کرلی ہے ۔''
(مسلم، کتاب البر والصلۃ ،باب من یموت لہ ولد الخ ،رقم۲۶۳۶،ص۱۴۱۶ )
(۴۹۶) ۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا اَنَسْ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جس مسلمان کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے مرجائیں اﷲ عزوجل اپنی رحمت سے اسے اور ان بچوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔'' ایک روایت میں ہے کہ'' جس کے تین بچوں کا انتقال ہو جائے وہ جنت میں داخل ہوگا ۔''
(بخاری، کتاب الجنائز ،باب ماقیل فی اولاد المسلمین الخ ،رقم۱۳۸۱،ج۱،ص۵۶۵ )
(۴۹۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ، ''جن مسلمان والدین کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے مرجائیں اﷲ عزوجل ان بچوں پر رحم کرتے ہوئے ان کے والدین کو جنت میں داخل فرمائے گا ۔ ''
(الاحسان بترتیب ابن حبان، کتاب الجنائز ،باب ماجاء فی الصبر وثواب الامراض ، رقم۲۹۲۹،ج۴،ص۲۶۰)