| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۴۹۱) ۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا'' آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں کہ اگرکوئی میرا مال لوٹنا چاہے؟(تو میں کیا کروں)'' ارشادفرمایا، ''اسے اپنا مال مت دو۔''اس نے عرض کیا،'' اگر وہ میرے ساتھ قتال کرے تو؟'' فرمایا،'' تم بھی اس کے ساتھ قتال کرو۔'' اس نے عرض کیا ،''اگر اس نے مجھے قتل کردیاتو؟'' فرمایا ،'' تم شہید ہو ۔'' اس نے دوبارہ عرض کیا ،''اگر میں نے اسے قتل کردیا تو؟'' فرمایا ،''تو وہ جہنم میں ہے۔ ''
(مسلم ، کتاب الایمان ،باب الدلیل علی ان من قعد اخذ ا لخ، ر قم۱۴۰ ،ص۸۴)
(۴۹۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔ ''ایک اور روایت میں ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا،'' جس کا مال بغیر حق کے لوٹا جا ئے تو اسے چاہیے کہ وہ قتال کرے اور اگر اسے قتل کردیا جائے تو وہ شہید ہے ۔''
(ترمذی ، کتاب الدیات ،باب ماجاء فی من قتل دون مالہ الخ ،رقم۱۴۲۴،ج۳،ص۱۱۱)
(۴۹۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَعِیْد بن زید رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےنبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ، ''جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنی جان کی حفا ظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے اورجو اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنے گھروالوں کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے ۔''
(ترمذی، کتاب الدیات ،باب ماجاء فیمن قتل دون مالہ الخ، رقم۱۴۲۶، ج۳،ص۱۱۲)