| جنت میں لے جانے والے اعمال |
نہیں دیتے ؟''پھر خود ہی بارگاہ ِ رسالت میں عرض کیا'' ہم قتل کو شہادت سمجھتے ہیں ۔''تو سرورِکونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،''اس طرح تو میری امت میں شہداء بہت کم ہونگے ،بیشک قتل میں شہادت ہے اور طاعون میں شہادت ہے اور پیٹ کی بیماری میں شہادت ہے اور ڈوب کر مرنے میں شہادت ہے اور درد زہ میں جس عورت کے پیٹ کا بچہ اسے ماردے اس میں بھی شہادت ہے۔''
(الترغیب والترہیب ، کتاب الجہاد ، رقم۹،ج۲،ص۲۱۸)
(۴۹۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ر بیع انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے میرے بھتیجے جَبْر انصاری رضی اللہ عنہ کی عیادت کی تو اُس کے گھر والے اس پر رونے لگے۔انہیں روتا دیکھ کر حضرت جبررضی اللہ عنہ نے کہا، ''رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آوازوں سے ایذاء نہ پہنچاؤ۔'' تو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' جب تک تم زندہ ہو انہیں رونے دو اور جب موت آجائے تو انہیں چاہیے کہ خاموش ہو جائیں۔'' بعض لوگوں نے جبر رضی اﷲ تعالی عنہ سے کہا ،''ہم نہیں سمجھتے تھے کہ تمہاری موت بستر پر ہوگی بلکہ ہمارا تو خیال یہ تھا کہ تم رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اﷲ عزوجل کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید کئے جاؤ گے۔'' تورسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' کیا شہادت صرف اللہ عزوجل کی راہ میں مارے جانے کو کہتے ہیں؟ اس طرح تو میری امت میں شہداء بہت کم ہوں گے بیشک اﷲ عزوجل کی راہ میں مرنا بھی شہاد ت ہے ،پیٹ کی بیماری میں مبتلاء ہوکر مرنابھی شہادت ہے اور طاعون میں مبتلا ء ہو کرمرنا بھی شہادت ہے اور دردِ زہ میں مبتلاء ہو کرمرنا بھی شہادت ہے اور جل کر مرنا بھی شہادت اور ڈوب کرمرنا بھی شہادت ہے اورنمونیا میں مبتلاء ہوکر مرنا بھی شہادت ہے۔
(طبرانی کبیر ،رقم۵۶۰۷،ج۵،ص۶۷)