پڑھااور فرمایا ،''اے ابو ربیع! ہم تجھ سے پیچھے رہ گئے۔ ''تو عورتیں چیخ چیخ کر رونے لگیں۔جب حضرتِ سیدنا ابن عتیک رضی اللہ عنہ ان عورتوں کو خاموش کرانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ''انہیں چھوڑ دو، جب واجب ہو تو پھرکوئی رونے والی نہ روئے۔ ''صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی'' وجوب سے کیا مراد ہے ؟'' فرمایا ''موت۔ '' ان کی بیٹی نے کہا ،''خدا کی قسم ! میں امید کرتی ہوں کہ تم شہید ہو کیونکہ تم جہاد کی تیاری کرچکے تھے ۔''
تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' اﷲ عزوجل نے انہیں ان کی نیت کے مطابق ثواب عطا فرمادیا ہے اور تم شہادت کسے کہتے ہو ؟'' صحابہ کرام نے عرض کیا ، ''اﷲ عزوجل کی راہ میں مارے جانے کو۔'' تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا،'' اﷲ عزوجل کی راہ میں مارے جانے کے علاوہ بھی سات شہادتیں ہیں ،(۱) پیٹ کی بیماری میں مبتلاء ہو کر مرنے والا شہید ہے(۲) سمندر میں ڈوب کر مرنے والا شہید ہے (۳) نمونیہ میں مبتلا ہو کر مرنے والا شہید ہے(۴) اور ملبے تلے دب کر مرنے والا شہید ہے(۵) اور مرنے والی حاملہ عورت شہید ہے ۔(ابوداؤد ، کتاب الجنائز ،رقم۳۱۱۱،ج۳،ص۲۵۲ )
(۴۸۸) ۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا عُقْبَہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''پانچ لوگ شہید ہیں (۱)اﷲ عزوجل کی راہ میں مارا جانے والا شہید ہے(۲) او ر سمند ر میں ڈوب کر مرنے والا شہید ہے(۳)اور پیٹ کی بیماری میں مبتلا ء ہوکر مرنے والا شہید ہے(۴)اور طاعون سے مرنے والا شہید ہے(۵) اور اﷲ عزوجل کی راہ میں دردِزہ سے مرنے والی عورت بھی شہید ہے۔''
(نسائی ، کتاب الجہاد ،ج۳،ص۳۷)
(۴۸۹) ۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہم عبداللہ بن رَواحہ رضی اﷲتعالی عنہ کی عیادت کے لئے گئے تو ان پر غشی طاری ہوگئی ہم نے کہا ،''اﷲ تعالی تم پر رحم فرمائے ،کاش! تمہارا انتقال کسی اور طرح سے ہو کیونکہ ہم تمہارے لئے شہادت کی امید رکھتے ہیں ۔''ابھی ہم یہی گفتگو کر رہے تھے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم تشریف لائے اور فرمایا، ''تم کس چیز کو شہادت شمار کرتے ہو ؟''جب لوگ خاموش رہے تو حضرتِ سیدنا عبداﷲرضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ،''تم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب کیوں