| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۴۸۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ''طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔''
(بخاری ، کتاب الطب ،رقم۵۷۳۲،ج۴،ص۳۰ )
(۴۸۱) ۔۔۔۔۔۔ اُم المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے طاعون کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا،'' یہ ایک عذاب ہے جسے اللہ عزوجل تم سے پچھلی امتوں پر بھیجاکرتا تھا پھر اللہ عزوجل نے اسے مؤمنین کے لئے رحمت بنادیا لہذا جو بندہ کسی شہر میں ہو اور وہاں طاعون کی وباء پھیل جائے تو وہ وہیں ٹھہرا رہے او ر صبر کرے اور ثواب کی امید کرتے ہوئے اس شہر سے نہ نکلے اور یہ ذہن نشین رکھے کہ جو کچھ اللہ عزوجل نے اس کے لئے لکھ دیا ہے 'اسے پہنچ کر رہے گا تو اسے ایک شہید کا ثواب دیا جائے گا ۔''
(بخاری ، کتاب الطب ،باب اجر الصابرین فی الطاعون ،رقم۵۷۳۴، ج۴،ص۳۰)
(۴۸۲) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''میری امت کی تباہی طعن اور طاعون سے ہوگی۔'' عرض کیا گیا،''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!طعن (یعنی نیز ہ بازی) کو تو ہم نے جان لیا ،یہ طاعون کیاہے ؟'' فرمایایہ تمہارے دشمن جنوں کے نیزے ہیں اوران دونو ں میں شہادت ہے۔''
(مسند امام احمد بن حنبل ، رقم۱۹۵۴۵،ج۷،ص۱۳۱)
(۴۸۳) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوبکر بن ابوموسیٰ رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا ابو موسیٰ یعنی میرے والد صاحب رضی اللہ عنہ کے سامنے طاعون کا ذکر کیا گیا تو فرمایا کہ ہم نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ'' یہ تمہا رے دشمن جنو ں کے نیز ے ہیں اور یہ تمہارے لئے شہادت ہے ۔''
(مستدرک ، کتاب الایمان،باب الطاعون شہادۃ،رقم۱۶۴،ج۴،ص۲۱۹ )
(۴۸۴) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ