Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
184 - 736
حالت سفر میں مرنے والے کا ثواب
(۴۷۷) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک ایسے شخص کا انتقال ہوا جو مدینہ ہی میں پیدا ہواتھا ۔جب نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس کا جنازہ پڑھایا ،پھر فرمایا،'' کا ش! یہ اپنی پیدائش گاہ کے علاوہ کہیں اور وفات پاتا۔'' صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا،،''یارسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کیوں ؟'' فرمایا،'' جب بندہ غریب الوطنی میں مرتا ہے تو اس کی پیدائش گا ہ سے انتقال کی جگہ تک کے فاصلے کو ناپا جاتاہے اور اس میت کو جنت میں اُتنی جگہ عطا کی جاتی ہے ۔ ''
   (ابن ماجہ ، کتاب الجنائز ، رقم۱۶۱۴،ج۲،ص۲۷۶ )
(۴۷۸) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''غریب الوطنی کی موت شہادت ہے ۔''
(ابن ماجہ ، کتاب الجنائز ، رقم۱۶۱۳،ج۲،ص۲۷۵)
(۴۷۹) ۔۔۔۔۔۔ ہارون بن عَنْتَرہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک دن فرمایا، '' تم شہید کسے شمار کرتے ہو؟'' ہم نے عرض کیا ،''یارسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اسے جو اللہ عزوجل کی راہ میں مارا جائے ۔'' فرمایا،'' اس طرح تو میری امت میں شہید بہت کم ہوں گے۔''(پھر فرمایا)'' جو اللہ عزوجل کی راہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے اورجو بلندی سے گرکر مر ے وہ شہید ہے اور دردِ زہ سے مرجانے والی عورت شہید ہے اور سمندر میں ڈوب جانے والا شہید ہے سُل (یعنی پھیپھڑوں میں زخم ہوجانے) کی بیماری میں مبتلاہوکر مرنے والا شہید ہے اور جل کر مرجانے والا شہید ہے اور غریب الوطنی میں مر جانے والا شہید ہے ۔''
 (مجمع الزوائد ، کتاب الجنائز ، رقم۹۵۵۴،ج۵،ص۵۴۶ )
Flag Counter