Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
183 - 736
فرمایا، ''جس نے میت کو غسل دیا اور اس کی پردہ پوشی کی تواللہ عزوجل چالیس مرتبہ اس کی مغفرت فرمائے گا اور جس نے کسی میت کو کفن پہنایااللہ عزوجل اسے جنت کے سندس اور استبرق (نہایت بار یک اورنفیس کپڑوں) کا لباس پہنائے گا اور جس نے میت کے لئے قبر کھودی پھر اسے قبر میں لٹایا تو اللہ عزوجل اسے ایک ایسے گھر کی صورت میں ثواب عطافرمائے گا جس میں اسے قیامت تک رکھے گا۔''
   (المستدرک للحاکم ، کتاب الجنائز ،رقم۱۳۸۰،ج۱، ص۶۹۰ )
(۴۷۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوذررضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''قبروں کی زیارت کیا کرو کہ تمہیں آخرت یاد رہے گی اور مردوں کو غسل دیا کرو کیونکہ بے جان جسم کو چھونے سے نصیحت حاصل ہوتی ہے ،اور نماز جنازہ ادا کیا کرو کہ شاید یہ عمل تمہیں غمزدہ کردے اورغمگین لوگ اللہ عزوجل کی رحمت کے سائے میں ہر بھلائی لوٹ لیتے ہیں ۔''
(المستدرک للحاکم، کتاب الجنائز ،رقم۱۴۳۵، ج۱،ص۷۱۱)
(۴۷۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جس نے کوئی قبر کھودی اللہ عزوجل اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔۔۔۔۔۔اور جس نے کسی میت کو غسل دیا اپنے گناہوں سے ایسا پاک وصاف ہوجائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔۔۔۔۔۔اور جس نے کسی میت کو کفن پہنایا اللہ عزوجل اسے جنت کے حُلّے یعنی جوڑے پہنائے گا۔۔۔۔۔۔ اور جس نے کسی غمزدہ سے تعزیت کی اللہ عزوجل اسے تقویٰ کا حُلَّہ پہنائے گا اور روحوں کے درمیان اس کی روح پر رحمت فرمائے گا ۔۔۔۔۔۔ اور جس نے کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کی اللہ عزوجل اسے جنت کے حلوں میں سے دو ایسے حلے پہنائے گا جنکی قیمت دنیابھی نہیں بن سکتی ۔۔۔۔۔۔اور جو جنازے کے ساتھ چلا اور تدفین تک ساتھ رہا اللہ عزوجل اس کیلئے ایسے تین قیراط ثواب لکھے گا جن میں سے ہر قیراط جبل احد سے بڑا ہوگا ۔۔۔۔۔۔اور جس نے کسی یتیم یا محتاج کی کفالت کی اللہ عزوجل اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا اور اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔''
  (مجمع الزوائد، کتاب الجنائز ، رقم۴۰۶۶، ج۳،ص۱۱۴)
Flag Counter