Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
182 - 736
رضائے الٰہی عزوجل کے لئے میت کو غسل د ینے ، کفن پہنانے اور قبر کھود نے کا ثواب
(۴۷۱) ۔۔۔۔۔۔ امیر المومنین حضرتِ سیدنا علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، '' جس نے میت کو غسل دیا اور کفن پہنایا اورخوشبو لگائی اور اسے کاندھا دیا اور اس پر نماز پڑھی اور اسکا کوئی راز ظاہر نہ کیا تو وہ گناہوں سے ایسا پاک وصاف ہو جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔''
(ابن ماجہ ، کتاب الجنائز ،رقم۱۴۶۲، ص۲۰۱)
(۴۷۲) ۔۔۔۔۔۔ ام المؤمنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جس نے میت کو غسل دیااور اس معاملے میں امانت کو ادا کیا اور میت کے کسی راز کو افشاء نہ کیا تو وہ گناہوں سے ایسا پاک وصاف ہو جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔''
(مسند امام احمد، رقم۲۳۹۳۵، ج۹، ص۴۳۲)
(۴۷۳) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابواُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جس نے میت کو غسل دیاپھر اس کی پردہ پوشی کی تواللہ اس کے گناہوں کو دھودے گا اور اگر اس نے میت کو کفنا یا تو اللہ عزوجل اسے سندس (یعنی نہایت باریک اور نفیس کپڑے) کا لباس پہنائے گا ۔''
(طبرانی کبیر،رقم۸۰۷۸، ج۸ ، ص۲۸۱)
وضاحت:
    میت کی پردہ پوشی سے مراد یہ ہے کہ بعض اوقات میت کا چہرہ سیاہ ہوجاتاہے یا اس کی شکل تبدیل ہوجاتی ہے یا اس نوعیت کی کوئی دوسری برُی چیز ۔۔۔۔۔۔تو اسے ظاہر نہ کیا جائے اور اگر کسی میت کے چہرے پر نور یا مسکراہٹ ظاہر ہو تو اس کا ذکر کرنا مستحب ہے خصوصاً جبکہ میت صالحین میں سے ہو ۔واللہ تعالی اعلم

(۴۷۴) ۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے غلام حضرتِ سیدنا ابو رافع اسلم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے
Flag Counter