(۴۶۹) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جب کسی آدمی کے بچے کا انتقال ہوجاتاہے تواﷲ عزوجل اپنے فرشتوں سے فرماتاہے کیا تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کرلی ؟''فرشتے عرض کرتے ہیں،'' ہاں۔'' تواللہ عزوجل فرماتاہے کیا تم نے اس کے دل کا ٹکڑا چھین لیا؟'' فرشتے عرض کرتے ہیں ، ''ہاں۔'' تواللہ عزوجل فرماتا ہے ،''تو پھر میرے بندے نے کیا کہا؟'' فرشتے عرض کرتے ہیں ،''اس نے تیری حمد کی اور
''اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ''
پڑھا۔'' تو اللہ عزوجل فرماتاہے ،'' میرے اس بندے کے لئے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بَیْتُ الْحَمْد رکھو۔'
'(سنن الترمذی، کتاب الجنائز ،باب فضل المصیبہ اذا احتسب ، رقم ۱۰۲۳،ج۲ ،ص ۳۱۳)
(۴۷۰) ۔۔۔۔۔۔ ام المؤمنین حضرتِ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہو ئے سنا ،''جس بندے کو مصیبت پہنچے پھر وہ یہ دعا پڑھ لے ،
اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ اَؤْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا
ہم اللہ عزوجل کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طر ف لوٹنا ہے، اے اللہ عزوجل مجھے میری مصیبت میں اجرعطا فرمااور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما۔''
تواﷲ عزوجل اسے اس مصیبت کا ثواب عطا فرماتا ہے اور اسے اس سے بہتر بدلہ عطا فرماتاہے ۔
حضرت ام سلمہ رضی اﷲتعالی عنہافرماتی ہیں کہ جب حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا انتقال ہو اتو میں نے (دل میں)کہاکہ ''ابوسلمہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے بہتر مسلمان کون ہوگا ؟ کیونکہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی طرف سب سے پہلے ہجرت کی۔'' پھر میں نے یہ دعا پڑھی تو اﷲ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں مجھے ان سے بہتر بدلہ عطا فرمادیا۔''
ایک روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' تم میں سے کسی کو مصیبت پہنچے تو اسے چاہیے کہ یہ دعا پڑھے:
'' اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ اَللّٰھُمَّ عِنْدَکَ اَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِیْ فَأَجُرْنِیْ بِھَا وَاَبْدِلْنِیْ خَیْرًا مِّنْھَا
ہم اللہ عزوجل کے مال ہیں او رہم کو اسی کی طرف پھر نا اے اللہ عزوجل میں اپنی مصیبت پر تجھ سے اجر کی امید رکھتا ہوں مجھے اس پر اجر عطا فرما اور اس سے بہتر بدلہ عطا فرما۔''
( صحیح مسلم ،کتاب الجنائز ،باب مایقال عند المصیبۃ ،رقم ۹۱۸،ص ۴۵۷ )