'' ۙالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتْہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۱۵۶﴾ؕاُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ ۟ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾''
کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ جب مومن میرے کسی حکم کے سامنے سرِتسلیم خم کرلیتا ہے اور جب کسی مصیبت میں مبتلاہو تو
'' اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ
( ہم اللہ عزوجل کے مال ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔)''پڑھتا ہے تواللہ عزوجل اس کے لئے تین اچھی خصلتیں لکھتا ہے، (۱)اللہ عزوجل اس پر درود بھیجتاہے، (۲)اللہ عزوجل اس پررحمت نازل فرماتاہے ،(۳) اور اسے ہدایت کے راستے پر ثابت قدمی عطا فرماتاہے ۔
او ررسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو مصیبت کے وقت
''اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ0''
کہتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی پریشانی دور فرمادیتا ہے اور اس کے کام کا انجام اچھا فرماتا ہے اور اسے ایسا بدل عطا فرماتا ہے جس پروہ راضی ہوجاتا ہے۔''
(المعجم الکبیر ،رقم ۱۳۰۲۷،ج ۱۲ ،ص ۱۹۷ )
(۴۶۷) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''میری امت کو ایک ایسی چیز عطا کی گئی جو پچھلی کسی امت کو نہیں دی گئی اور وہ چیز مصیبت کے وقت
'' اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ''
(المعجم الکبیر ،رقم ۱۲۴۱۱،ج ۱۲، ص ۳۲ )
(۴۶۸) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدتنا فاطمہ بنت حسین رضی اﷲ تعالی عنہا اپنے والد امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جسے کوئی