| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۴۵۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک جنازہ گزرا تو اسکی اچھے لفظوں سے تعر یف کی گئی تو سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ'' اس پر واجب ہوگئی ، اس پر واجب ہوگئی ، اس پر واجب ہوگئی۔'' پھر ایک جنازہ گزرا تو اسے برے لفظوں سے یاد کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،''اس پر واجب ہوگئی اس پر واجب ہوگئی اس پر واجب ہوگئی ۔''
حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے عر ض کیا ،'' یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! میرے ماں باپ آپ پر قربان! ایک جنازہ گزرا اور اسے اچھے لفظوں میں یاد کیاگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر واجب ہوگئی اس پر واجب ہوگئی واجب ہوگئی پھر ایک جنازہ گزرا اسے برے لفظوں سے یاد کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی واجب ہوگئی واجب ہوگئی ؟(یعنی یہ کیا ماجرا ہے؟)'' تو رسول ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' جب تم کسی میت کی تعریف کرتے ہو تو اس پر جنت واجب ہو جاتی ہے اور جب تم کسی میت کی برائی بیان کرتے ہو تو اس پر جہنم واجب ہوجا تی ہے ،تم لوگ زمین پر اللہ عزوجل کے گواہ ہو۔ ''(بخاری ، کتاب الجنائز ،رقم۱۳۶۷،ج۱، ص۴۶۰)
(۴۵۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جس مسلمان کا انتقال ہو جائے اور اس کے چالیس قریبی پڑوسی گواہی دیں کہ وہ اس میں بھلائی کے سوا ء کچھ نہیں جانتے ،تو اللہ عزوجل فرماتا ہے،'' بے شک میں نے اس شخص کے بارے میں تمہارے علم کو قبول کرلیااور اس کے جو گناہ تم نہیں جانتے تھے وہ معا ف فرمادئیے ۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبان ،فصل فی الموت ، رقم۳۰۱۵،ج۵،ص۱۲)
(۴۵۹) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ،''جس مسلمان کی میت پر اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے تین گھربھلائی کی گواہی دیں تواللہ عزوجل فرماتا ہے ،''بے شک میں نے اپنے بندوں کی ان کے علم کے مطابق گواہی قبول فرمالی اور اپنے علم کے مطابق اس میت کی بخشش فرمادی۔ ''
(مسند امام احمد،رقم۸۹۹۹، ج۳، ص۳۳۰)
(۴۶۰) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس مسلمان کے لئے چار افراد بھلائی کی گواہی دیں تواللہ عزوجل اسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا ،''اور تین؟'' فرمایا،'' اور تین (بھی)۔''پھر ہم نے عرض کیا ،''اور دو ؟'' فرمایا،''اور دو(بھی)۔''پھر ہم نے ایک کے بارے میں نہیں پوچھا۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز ،۸۵باب ثناء الناس علی المیت رقم ۱۳۶۸،ج۱ ،ص ۴۶۱)