Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
175 - 736
  تو حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے حضرتِ سیدنا خباب رضی اﷲ تعالی عنہ کو ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اس قول کے بارے میں پوچھنے کے لئے ام المؤمنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس بھیجااور فرمایا،'' مجھے بتانا کہ ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہا نے کیاجواب دیا ہے ۔''

    اس کے بعد حضرتِ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے مسجد میں پڑےہوئے پتھروں میں سے ایک پتھر کو اٹھایا اور حضرتِ سیدنا خبا ب رضی اللہ عنہ کے لوٹنے تک اسے اپنے ہاتھ میں گھماتے رہے۔پھرجب حضرتِ سیدنا خباب رضی اللہ تعالی عنہ نے واپس آکر بتایا کہ ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سچ کہتے ہیں تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے اپنے ہاتھ میں موجود پتھر زمین پر مارا اور فرمایا ،''(افسوس) ہم نے بہت سارے قیرا ط ضائع کردیئے۔ ''
 (مسلم ، کتاب الجنائز،باب فضل الصلوۃ علی الجنازۃ، رقم۹۴۵، ص۴۷۲)
 (۴۵۰) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جو نماز ادا کرنے تک جنازے کے ساتھ رہا اس کے لئے ایک قیراط (اجر)ہے۔ ''صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا یہ ہمارے قیراطوں جیساہے ؟'' ارشاد فرمایا، ''نہیں بلکہ اُحد پہاڑ کی مثل یا اس سے بھی کہیں بڑا۔''
  (مسند احمد ، رقم۴۴۵۳،ج۲ ، ص۲۰۰)
 (۴۵۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''بندے کو اپنی موت کے بعد سب سے پہلے جو جزاء دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے جنازے میں شریک تمام افراد کی مغفرت کردی جاتی ہے ۔''
   (مجمع الزوائد ، کتاب الجنائز ،باب اتباع الجنازۃ ، رقم۴۱۳۴، ج۳،ص۱۳۲)
Flag Counter