| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۴۴۷) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی ا ﷲتعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ؟'' حضرتِ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا ''میں نے۔'' پھر فرمایا، ''تم میں سے آج مسکین کو کس نے کھانا کھلا یا؟'' حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق نے عرض کیا ''میں نے ۔''پھر فرمایا،'' تم میں سے آج مریض کی عیادت کس نے کی ؟'' حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا،'' میں نے۔'' پھر فرمایا ، ''آج تم میں سے جنازے کے ساتھ کو ن گیا؟'' حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا،'' میں۔'' پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''جس شخص میں یہ چار خصلتیں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہوگا ۔''
(مجمع الزوائد ، کتاب الصیام ،رقم۴۹۴۶، ج۳،ص۳۸۳)
(۴۴۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جو نماز ادا کرنے تک جنازے میں شریک رہا اس کے لئے ایک قیراط ثواب ہے اور جو تدفین تک شریک رہا اس کے لئے دوقیراط ثواب ہے پوچھا گیا دوقیراط کیا ہیں؟''فرمایا ،''دوعظیم پہاڑوں کی مثل۔ ''
جبکہ مسلم شریف کی روایت میں ہے '' ان میں سے چھوٹا پہاڑ جبلِ احد جتنا ہے ''اور بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے ''جو کسی مسلمان کے جنازے میں ایمان اوراجروثواب کی نیت سے شریک ہوا اور نماز جنازہ ادا کرنے اور تدفین تک جنازے کے ساتھ رہا تو دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ان میں سے ہر قیرا ط احد پہاڑ کے برابر ہوگا اور جو نماز پڑھ کر تدفین سے پہلے لوٹ آیا تووہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ۔''(مسلم ، کتاب الجنائز،باب فضل الصلوۃ علی الجنازۃ ، رقم۹۴۵،ص۴۷۱)
(۴۴۹)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدناعامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرتِ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک صاحب مقصورہ حضرتِ سیدنا خباب رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائے اور فرمایا،'' اے عبداللہ ابن ِعمر!کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کیا فرما رہے ہیں ؟''وہ کہتے ہیں کہ میں نے سرورِکونین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے کہ'' جو شخص میت کے ساتھ اس کے گھر سے نکلا اور اس پر نماز پڑھی اور تدفین تک اس کے ساتھ رہا تو اس کے لئے دو قیرا ط ثواب ہے اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے اور جو نماز پڑھ کر لوٹ آیا اس کے لئے احد پہاڑجتنا ایک قیرا ط ہے ۔''