کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوۡرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ فَمَنۡ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ؕ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوۡرِ ﴿185﴾
ترجمہ کنزالایمان :ہرجا ن کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کوپورے ملیں گے جو آگ سے بچا کرجنت میں داخل کیا گیا وہ مرُاد کو پہنچا اور دنیاکی زندگی تو یہی دھو کے کامال ہے۔(پ 4، آل عمران: 185)
وصیت کرکے مرنے کا ثواب
(۴۴۱) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جو وصیت کرکے دنیا سے رخصت ہوا وہ سیدھے راستے اور سنت پر مرا اور تقوی اور شہاد ت پر مرااور مغفرت یافتہ ہو کر فوت ہوا۔''
(ابن ماجۃ، کتاب الوصایا، رقم۲۷۰۱،ج۳، ص۳۰۴)