| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۴۳۳) ۔۔۔۔۔۔ امیر المومنین حضرتِ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ'' جب جمعہ کا د ن آتاہے تو شیاطین لوگوں کو بازاروں میں روکے رکھتے ہیں جبکہ فرشتے مساجد کے دروازوں پر بیٹھ کر لوگوں کے نام ان کے مسجدکی طرف جلدی آنے کے اعتبار سے لکھتے ہیں، یہاں تک کہ امام منبر پر آجائے تو جو امام کے قریب ہو ،خاموش رہتے ہو ئے توجہ سے اما م کا خطبہ سنے اور کوئی لغو بات نہ کرے تو اس کے لئے ثواب میں سے دو حصے ہیں اور جوامام سے دور ہو کر خاموش رہے اور توجہ سے سنے تواس کے لئے ثواب میں سے ایک حصہ ہے اور جو امام کے قریب ہواور لغو کام کرے اور خاموش نہ رہے اور توجہ کے ساتھ نہ سنے اسے دگناگناہ ملے گا اورجوکسی سے کہے ،'' خاموش رہ'' تو اس نے بھی کلام کیااور جس نے کلام کیا اس کا جمعہ کامل نہیں۔ پھرامیرالمومنین حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کوایسے ہی فرماتے ہوئے سنا۔
(ابوداؤد ، کتاب الصلوۃ ، رقم۱۰۵۱،ج۱، ص۳۹۲)
(۴۳۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالی عنہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جمعہ کے دن ملائکہ کو مسجد کے دروازوں پر بھیجاجاتا ہے جو لوگوں کے آنے کا وقت لکھتے ہیں ۔ جب امام منبر پر آجاتاہے توصحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور قلم اٹھا لئے جاتے ہیں اور ملائکہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ فلاں کیوں نہیں آیا؟ پھر ملائکہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں ،''اے اللہ عزوجل! اگر وہ بندہ راستہ بھٹک گیاہے تو اسے راستہ دکھا اور اگر بیمار ہے تو اسے شفا ء عطا فرما اور اگر وہ تنگ دست ہے تو اسے کشادگی عطافرما۔''
(ابن خزیمۃ ،باب ذکر دعاء الملئکۃ الخ،ج۳،ص۱۳۴)
حضرتِ سیدنا علقمہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سیدنا عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے ساتھ جمعہ کے لئے نکلا توآپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ تین شخص مسجد میں پہلے سے موجود ہیں تو فرمایا،'' میں چار میں سے چوتھا ہوں اور چار میں سے چوتھا شخص اﷲ عزوجل(کی رحمت) سے دور نہیں ،بے شک میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ '' قیامت کے د ن لوگ جمعے کے لئے جلدی آنے کی ترتیب سے اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں بیٹھیں گے ، سب سے پہلے آنے والا آگے ہوگا اس کے بعد دوسرا ، پھر تیسرا اور اس کے بعد چوتھا اور چار میں سے چوتھا دور نہیں ہوگا۔''
(ابن ماجہ ،رقم۱۰۹۴،ج۲، ص۱۴ )
(۴۳۵) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو عبیدہ عامر بن عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مسعو د رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ''جمعہ کے لئے جانے میں جلدی کیا کروکیونکہ اللہ عزوجل جمعے کے دن اہلِ جنت کے لئے کافور کے ایک ٹیلے پر تَجَلِّی فرمایا کریگا تو جمعے کے لئے جلدی آنے والے لوگ اپنے جلدی آنے کے اعتبار سے اللہ عزوجل کی قربت پائیں گے تو اللہ عزوجل انہیں ایسی کرامت عطا فرمائے گا جو انہوں نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو گی ۔پھر وہ اپنے اہل کی طرف لوٹیں گے اور اللہ کی عطا کی