| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۴۳۱) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جس نے جمعہ کے دن غسلِ جنابت کی طرح غسل کیاپھر پہلی گھڑی میں نماز کے لئے چلا توگویا اس نے اللہ عزوجل کے لئے ایک اونٹ صدقہ کیا اور جو دوسری گھڑی میں چلا گویا اس نے ایک گائے صدقہ کی اور جو تیسری گھڑی میں چلاتو گویا اس نے سینگ والا مینڈھا صدقہ کیا اور جو چوتھی گھڑی میں چلا توگویا اس نے مرغی صدقہ کی اور جو پانچویں گھڑی میں چلا گویا اس نے ایک انڈا صدقہ کیااور جب امام منبر پر آجائے تو ملائکہ حاضر ہوکر اس کا خطبہ سنتے ہیں ۔''
(صحیح البخاری ، کتاب الجمعۃ ،باب فضل الجمعۃ ،رقم۸۸۱،ج۱،ص۳۰۵)
ایک اورروایت میں ہے کہ ''جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کرپہلے آنے والوں کے نام لکھتے ہیں۔ سب سے پہلے آنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک اونٹ صدقہ کیا،اس کے بعد آنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک گائے صدقہ کی ،اس کے بعد آنے والے کی مثال ایک مینڈھا صدقہ کرنے والے کی سی ہے ،اس کے بعد آنے والے کی مثال مرغی صدقہ کرنے والے کی سی ہے، اور اس کے بعد آنے والے کی مثال انڈا صدقہ کرنے والے کی سی ہے اور جب امام منبر پر آجائے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ کر خطبہ سننے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ''
(صحیح البخاری ، کتاب الجمعۃ ،باب الاستماع الی الخطبۃ ،رقم۹۲۹،ج۱،ص۳۱۹)
جبکہ ایک روایت میں ہے کہ سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' جمعہ کے دن ہر مسجد کے دروازے پر دو فرشتے کھڑے کر دئیے جا تے ہیں جو پہلے آنے والوں کے نام لکھتے ہیں اور ان کے لئے راہِ خدا عزوجل میں ایک اونٹ یا ایک گا ئے یا ایک بکری یا ایک پرندہ یا ایک انڈا کا صدقہ کرنے کا ثواب لکھتے ہیں اورجب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو صحیفے لپیٹ دئیے جاتے ہیں ۔'' (۴۳۲) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ، ''فرشتے مسجدوں کے دروازے پر بیٹھ جاتے ہیں اور پہلے ، دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والوں کےنام لکھتے ہیں جب امام خطبہ کے لئے آتا ہے تو صحیفے لپیٹ دئیے جاتے ہیں۔ ''
(مجمع الزوائد ، ر قم ۳۰۷۹،ج۲،ص۳۹۰)
طبرانی شریف کی روایت میں ہے راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا'' اے ابو اُمَامَہ ! کیا امام کے خطبے کے شروع ہونے کے بعد آنے والوں کا جمعہ نہیں ہوتا؟'' فرمایا،'' کیوں نہیں ہوتا لیکن ان کا نام صحیفوں میں نہیں لکھا جاتا۔''