Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
166 - 736
سے نکل کر مسجد میں حاضر ہوا پھر اس سے جتنی رکعتیں ہوسکیں ادا کیں اور کسی کو ایذا نہ پہنچائی پھر نماز کی ادائیگی تک خامو ش رہا تو اس کا یہ عمل اس جمعہ سے اگلے جمعہ تک کے گناہوں کے لئے کفارہ ہوجائے گا ۔''
    (مسند احمد بن حنبل ،رقم ۲۳۶۳۰ ،ج۹، ص۱۴۵)
 (۴۲۷) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَلْمَان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا : ''جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور جتنا ہوسکے طہارت کرے پھر تیل اور گھر میں موجود خوشبو لگائے ، دو افراد میں جدائی نہ ڈالے، جتنی رکعتیں ہو سکيں ادا کرے، جب امام کلام کرے تو یہ خاموش رہے تو اس کے اس جمعہ اور اگلے جمعہ کے درمیان کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔'
   (بخاری شریف ، کتاب الجمعہ ،باب الدھن للجمعۃ،رقم ۸۸۳،ج۱ ،ص ۳۰۶ )
 (۴۲۸) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے اچھی طر ح غسل کیا پھر صبح مسجد کی طر ف آیا اور اما م کے قریب بیٹھا اوراسے تو جہ سے سنا تووہ جتنے قدم چلا ہر قدم پراس کے لئے ایک سال کی عبادت اور ایک سال کے روزوں کا ثواب ہے۔''
 (مسند احمد ، رقم ۶۹۷۲،ج۲، ص ۶۶۰)
 (۴۲۹) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِ جُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،'' جس نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیااور صبح سویر ے بیدا رہوکر مسجد کی طرف پیدل چلا،کسی سواری پرسو ار نہ ہوا اور امام کے قریب ہوکر بیٹھا اور اسکاخطبہ تو جہ سے سنا اور کوئی لغوبات نہ کی تو اسے ہر قدم چلنے پرایک سال کے روزوں اورنمازوں کا ثواب ملے گا ۔''

نیز حضرتِ سیدنا طاؤس علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عر ض کیاکہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ جمعہ کے دن غسل کیا کر واور اپنے سرو ں کو اچھی طرح دھو یا کر واگر چہ تم جنبی نہ ہو اور خوشبو بھی لگایاکرو تو حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ''خوشبو لگانے کا تومجھے معلوم نہیں البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کرنے کا حکم ضرو ر فرمایا ہے۔''
    (مسند احمد ، رقم ۱۶۱۷۳، ج۵ ،ص ۴۶۵)
 (۴۳۰) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنا سر اچھی طرح دھوئے پھر اپنی خوشبوؤں میں سے بہترین خوشبو لگائے اور اپنے کپڑو ں میں سے بہترین کپڑے پہنے پھر نماز کے لئے نکلے اور دو شخصوں میں جدائی نہ ڈالے پھر امام کی بات کو توجہ سے سنے تواس کے اس جمعہ سے اگلے جمعہ اور مزید تین دن کے گناہوں کی مغفرت کردی جاتی ہے ۔''
   (ابن خزیمۃ ،رقم۱۸۰۳،ج۳، ص۱۵۲)
Flag Counter