| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۴۱۴) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ پانچ نمازیں اورجمعہ اگلے جمعہ تک اور ایک رمضان اگلے رمضان تک کے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جبکہ بندہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہے۔''
(مسلم ،کتاب الطہارۃ، باب الصلوات الخمس والجمعۃ الی الجمعۃ ، رقم۱۶،ج۱، ص ۱۴۴)
(۴۱۵) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کی نماز کے لئے آیا اور خطبہ توجہ سے سنا اور خاموش رہا تو اس کے اگلے جمعہ اور اس کے بعد تین دن تک (یعنی دس د ن) کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے ۔''
(مسلم، کتاب الجمعہ، رقم ۲۷ ،ج۱ ،ص ۴۲۷)
(۴۱۶) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوسَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ پانچ اعمال ایسے ہیں جو انہیں ایک دن میں کریگااللہ عزوجل اسے جنتیوں میں لکھے گا،(۱) مریض کی عیادت کرنا ، (۲)جنازے میں حاضر ہونا ،(۳) ایک دن کا روزہ رکھنا، (۴)جمعہ کے لئے جانا اور(۵)غلام آزاد کرنا۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب الصلوۃ ،باب مایفعل من الخیریوم الجمعۃ ، رقم ۳۰۲۷،ج۲، ص ۳۸۲)
(۴۱۷) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:'' جمعہ کے دن تین گروہ آتے ہیں ،پہلا وہ شخص جو لغو کام کرتاہو ا حاضر ہوا، اس کے لئے جمعہ میں سے یہی حصہ ہے اور دوسرا وہ شخص جو دعامانگتاہوا حاضر ہوا،اس نے اللہ عزوجل کو پکارا اب اللہ عزوجل چاہے تو اسے عطا فرمائے اور چاہے تو روک دے اورتیسرا وہ شخص جو خاموشی سے حاضر ہوا اور کسی مسلمان کی گردن نہ پھلانگی او ر نہ ہی کسی کو ایذاء دی تواسکی یہ نماز جمعہ اگلے جمعہ تک اوراس کے بعد تین دن کے گناہوں کے لئے کفارہ ہوجاتی ہے ۔کیونکہ اللہ عزوجل فرماتاہے ،