Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
160 - 736
کرنے والے اعمال اور ہرنیکی سے حصہ اور ہر گناہ سے چھٹکارا مانگتا ہوں، میرے ہرگناہ کو معا ف فرما اور ہر تنگی کوکشادہ فرمااور ہر اس حاجت کو جو تیری رضا کا سبب ہو پورا فرما، اے سب سے بڑھ کررحم فرمانے والے۔

یہ دعا مانگنے کے بعد اپنی خواہش کے مطابق اللہ عزوجل سے کسی دنیوی یا اخروی چیز کے بارے میں سوال کرے تووہ چیز اس کے لئے لکھ دی جائے گی ۔''
    (ترمذی ،کتاب الوتر، باب ماجاء فی صلاۃ الحاجۃ، رقم ۴۷۸، ج۲، ص ۲۱)
(۴۱۰) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بارہ رکعتیں ایسی ہیں کہ جنہیں تم دن یا رات میں اس طرح ادا کرو کہ ہر دورکعتوں کے بعد تشہد میں بیٹھو پھر جب تم نمازکا آخری قعدہ کرلو تو اللہ عزوجل کی حمدو ثنا کرو اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو پھر سجدے میں جاکر سورۃفاتحہ سات مرتبہ پڑھو اور دس مرتبہ یہ کلمات پڑھو ،
'' لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
ترجمہ :اللہ کے سواکوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اسی کی با دشاہی ہے اور اسی کے لئے تمام خوبیاں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔''   

پھر کہو
، ''اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِمَعَاقِدِ الْعَزَّ مِنْ عَرْشِکَ وَمُنْتَہَی الرَّحْمَۃِ مِنْ کِتَابِکَ وَاسْمِکَ الْاَعْظمِ وَجَدِّکَ الْاَعْلٰی وَکَلِمَاتِکَ التَّآمَّۃِ
ترجمہ :اے اللہ! میں تجھ سے تیرے عر ش کی بلندیوں ، تیری کتاب کی رحمت کی انتہاء، تیرے اسم اعظم اور تیری اعلی بزرگی اور تیرے کلماتِ تامہ کے وسیلہ سے دعا کرتاہوں۔''

    پھر اپنی حاجت طلب کرو پھر اپنا سر اٹھا کر دائیں بائیں سلام پھیر دو اور یہ طریقہ بے وقوفوں کو ہرگز نہ بتانا کیونکہ وہ ان کلمات کے وسیلے سے دعا مانگیں گے اور ان کی دعائیں قبول کرلی جائیں گی ۔''
( تنزیہ الشریعۃ، کتاب الصلاۃ ، الفصل الثانی ،رقم ۹۲، ج ۲ ، ص ۱۱۲)
    امام حاکم علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ حضرت حمید بن حرب علیہ الرحمۃنے فرمایا میں نے اس کا تجربہ کیا اور اسے حق پایا ۔حضرتِ سیدنا ایھم بن علی دبیلی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کا تجربہ کیا تو اسے حق پایا ۔امام حاکم علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ابو زکریاعلیہ الرحمۃ نے ہم سے فرمایا، ''میں نے اس کا تجربہ کیا تو اسے حق پایا ۔'' اور امام حاکم علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ میں نے خودبھی اس کا تجربہ کیا اوراسے حق پایا ۔

وضاحت:     (مؤلف علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں )ہم نے نماز استخارہ کواس باب میں اس لئے شامل نہیں کیا کہ احادیث میں اس کا ثواب بیان نہیں کیا گیا جبکہ ہماری یہ کتاب اعمال کے ثواب کے بیان پرمشتمل ہے ۔
Flag Counter